مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
وَعَنْ الْقَاسِمِ أَيْضًا ، قَالَ : قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَقَدْ بَنَى سَعْدٌ الْقَصْرَ ، وَاتَّخَذَ مَسْجِدًا فِي أَصْحَابِ النَّمِرِ ، فَكَانَ يَخْرُجُ إِلَيْهِ فِي الصَّلَوَاتِ ، فَلَمَّا وَلِيَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْتَ الْمَالِ ، نَقِبَ بَيْتُ الْمَالِ ، فَأَخَذَ الرَّجُلَ . ¤ فَكَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عُمَرَ ، فَكَتَبَ عُمَرُ أَنْ لَا تَقْطَعَهُ ، وَانْقُلِ الْمَسْجِدَ ، وَاجْعَلْ بَيْتَ الْمَالِ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ ، فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ فِي الْمَسْجِدِ مَنْ يُصَلِّي ، فَنَقَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ وَخَطَّ هَذِهِ الْخُطَّةَ ، وَكَانَ الْقَصْرُ الَّذِي بَنَى سَعْدٌ شَاذَرْوَانَ ، كَانَ الْإِمَامُ يَقُومُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ ، فَنُقِضَ حَتَّى اسْتَوَى مَقَامُ الْإِمَامِ مَعَ النَّاسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤قاسم نامی اسی راوی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے قصر بنوایا تھا اور انہوں نے اصحاب نمر کے درمیان مسجد بنائی تھی ، وہ نکل کر اس کی طرف نمازوں کی ادائیگی کے لئے جاتے تھے جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بیت المال کا نگران مقرر کیا گیا اور بیت المال میں نقب لگی تو انہوں نے ایک شخص کو پکڑ لیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ تم اس کا ہاتھ نہ کاٹو اور مسجد کو منتقل کر دو اور بیت المال کو قبلہ والی سمت میں کر دو کیونکہ جو شخص نماز ادا کرے گا وہ مسلسل مسجد میں رہے گا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے منتقل کر دیا اور وہاں لکیر لگوا دی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جو محل تعمیر کروایا تھا وہ شاذروان تھا امام اس پر کھڑا ہوتا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت اسے توڑ دیا گیا تھا یہاں تک کہ امام لوگوں کے برابر کھڑا ہونے لگا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔