مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
وَعَنْ أَبِي مَاجِدٍ - يَعْنِي الْحَنَفِيَّ - قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنِّي أَذْكُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ . ¤ فَكَأَنَّمَا أَسِفَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَأَنَّكَ كَرِهْتَ قَطْعَهُ ؟ قَالَ : " وَمَا يَمْنَعُنِي ؟ لَا تَكُونُوا أَعْوَانًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ ، إِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ أَنْ يُقِيمَهُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤ابوماجد حنفی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے فرمایا : اور میں اس شخص کا ذکر کر رہا تھا ، جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے ہاتھ کٹوایا تھا ایک چور کو لایا گیا آپ نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تبدیل ہو گیا ( یعنی آپ اس حوالے سے غمگین تھے ) ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گویا آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے لئے کیا چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے تم لوگ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنوحکمران کے لئے مناسب یہ ہے : جب کوئی مقدمہ آئے ، تو وہ اس کی سزا کو جاری کرے بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے وہ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ( بے شک اس نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” لوگوں کو چاہیے کہ وہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم لوگ یہ بات پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔