مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 10653
وَعَنْ الْقَاسِمِ قَالَ : أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بِجَارِيَةٍ سَرَقَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ ، فَلَمْ يَقْطَعْهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
قاسم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کنیز ( یا لڑکی ) کو لایا گیا جس نے چوری کی تھی وہ محصنہ نہیں تھی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور قاسم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے لیکن اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔