مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ;أَنَّ ابْنَ مُقَرِّنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أَنَامَ عَلَى فِرَاشٍ سَنَةً ؟ فَتَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ . كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَنَمْ عَلَى فِرَاشِكَ ، قَالَ : إِنِّي مُوسِرٌ ؟ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَةً . ¤ قَالَ : عَبْدِي سَرَقَ قِبَاءً مِنْ عِنْدِي ؟ قَالَ : مَالُكَ سَرَقَ بَعْضُهُ مِنْ بَعْضٍ - أَيْ لَا قَطْعَ عَلَيْهِ - قَالَ : أَمَتِي زَنَتْ ؟ قَالَ : اجْلِدْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا لَمْ تُحْصَنْ ؟ قَالَ : إِسْلَامُهَا إِحْصَانُهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ هَذَا وَغَيْرِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں : ابن مقرن نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، اور کہا: اے ابوعبدالرحمن ! میں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ میں ایک سال تک اپنے بستر پر نہیں سوؤں گا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : اے ایمان والو ! ان پاکیزہ حلال چیزوں کو حرام قرار نہ دو ، جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہیں ، اور تم حد سے تجاوز نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “ ۔ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ) تم اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اپنے بستر پر سو جاؤ انہوں نے کہا: میں خوشحال شخص ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم غلام آزاد کر دو انہوں نے کہا: میرے غلام نے میرے پاس قبا چوری کر لی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے مال کے ایک حصے نے دوسرے کو چوری کر لیا ہے ان کی مراد یہ تھی کہ اس کو ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی جا سکتی ابن مقرن نے کہا: میری کنیز نے زنا کیا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے کوڑے لگاؤ انہوں نے کہا : وہ محصنہ نہیں ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کا اسلام اس کا احصان ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال اور دیگر روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔