مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 10651
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا قَطْعَ فِي مَاشِيَةٍ إِلَّا مَا وَرَاءَ الزِّرْبِ ، وَلَا فِي تَمْرٍ إِلَّا مَا آوَى الْجَرِينُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہاتھ کاٹنے کی سزا صرف اس جانور ( کی چوری ) پر دی جائے گی ، جو باڑے میں سے ( چوری کیا گیا ہو ) اور اس کھجور ( کی چوری ) پر دی جائے گی ، جو گودام میں سے ( چوری کی گئی ہو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔