مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 10650
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ جَارِيَةً سَرَقَتْ زُكْرَةً مِنْ خَمْرٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ تَبْلُغْ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ ، فَلَمْ يَقْطَعْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : كَانَ هَذَا قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَفِيهِ أَبُو حَوْمَلٍ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک لڑکی نے شراب کا مٹکا ( یا مشکیزہ ) چوری کر لیا اس کی قیمت تین درہم بھی نہیں تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ نہیں کٹوایا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : یہ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحومل ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔