حدیث نمبر: 10563
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : لَقِيَ الزُّبَيْرُ سَارِقًا فَشَفَعَ فِيهِ فَقِيلَ لَهُ : حَتَّى نُبَلِّغَهُ الْإِمَامَ ، فَقَالَ : " إِذَا بُلِّغَ الْإِمَامُ فَلَعَنَ اللَّهُ الشَّافِعَ وَالْمُشَفَّعَ " . كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو غَزِيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بن زبیر نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ایک چور سے ہوئی ۔ انہوں نے اس چور کے بارے میں سفارش کی ان سے کہا: گیا : ہم پہلے حاکم تک اسے پہنچا دیں انہوں نے فرمایا : جب یہ معاملہ حاکم تک پہنچ جائے گا ، تو اللہ تعالٰی سفارش کرنے والے اور جس کے سامنے سفارش کی گئی ( یا جس کے بارے میں سفارش کی گئی ) ان پر لعنت کرے “ ۔ یا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوغزیہ محمد بن موسیٰ انصاری ہے ۔ جسے امام ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (158)»