حدیث نمبر: 10562
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ ، قَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَكَلَّمُوهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، وَايْمِ اللَّهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرِ إِلَّا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ الرَّازِيُّ ، وَخَالَفَهُ أَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ ، فَقَالُوا : عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ، قُلْتُ : وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : قریش ، مخزومی عورت کے معاملے میں پریشانی کا شکار ہو گئے جس نے چوری کی تھی لوگوں نے کہا: اس عورت کے بارے میں اللہ کے رسول کے ساتھ کون بات کرے گا لوگوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے کے لوگ اس لئے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ جب ان میں نمایاں حیثیت کا کوئی شخص چوری کرتا تھا تو وہ لوگ اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کرتا تھا تو وہ لوگ اس پر حد جاری کر دیتے تھے اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد نے ( ایسا کیا ہوتا ) تو میں نے اس کا ہاتھ بھی کٹوا دینا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں عمر بن قیس ماصر کے حوالے سے
یہ روایت صرف عمرو بن ابوقیس رازی نے نقل کی ہے زہری کے شاگردوں نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی یہ زہری کے حوالے سے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10562
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح