مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْحَدِّ يَثْبُتُ عِنْدَ الْإِمَامِ فَيُشْفَعُ فِيهِ باب: جب حاکم کے سامنے حد ثابت ہو جائے ، اور پھر اس بارے میں سفارش کی جائے
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّ خَالَتَهُ أُخْتَ مَسْعُودِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ حَدَّثَتْهُ : أَنَّ أَبَاهَا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ قَطِيفَةً : نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَنْ تُطَهَّرَ خَيْرٌ لَهَا " . فَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا ، وَهِيَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ أَوْ مَنْ بَنِي أَسَدٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْهَا عَنْ أَبِيهَا ، وَهَذَا عَنْهَا نَفْسِهَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤محمد بن یزید بن رکانہ بیان کرتے ہیں : ان کی خالہ جو مسعود بن عجماء کی بہن تھی انہوں نے ان صاحب کو یہ حدیث بیان کی ہے کہ اس خاتون کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس مخزومی عورت کے بارے میں گزارش کی جس نے ایک چادر کی چوری کی تھی یہ گزارش کی کہ ہم اس کے بدلے میں فدیہ کے طور پر چالیس اوقیہ دے دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس کی تطہیر ہو لینے دو تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اس کا تعلق بنو عبداشہل یا شاید بنواسعد سے تھا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے یہ روایت اس خاتون کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور یہاں یہ روایت اس خاتون کے حوالے سے نقل ہوئی ہے ، اور باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔