مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ زِنَا الْجَوَارِحِ باب: اعضاء کا زنا
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ : إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا ، فَذَكَرَ ابْنَيْ صُورِيَا حِينَ أَتَاهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمَا : " بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى ، وَالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ ، وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى ، أَنْتُمْ أَعْلَمُ ؟ " . ¤ قَالَا : قَدْ نَحَلَنَا قَوْمُنَا ذَلِكَ ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يُنَاشِدُنَا بِمِثْلِ هَذِهِ ، قَالَ : " تَجِدُونَ النَّظَرَ زَنْيَةً ، وَالِاعْتِنَاقَ زَنْيَةً ، وَالْقُبَلَ زَنْيَةً . . . . " فَذَكَرَهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤امام شعبی بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اگر تمہیں یہ ( مطلوبہ یا پسندیدہ ، حکم یا فیصلہ ) دیدیا جائے ، تو تم قبول کر لینا اور اگر تمہیں ( تمہارا مطلوبہ حکم یا فیصلہ ) نہیں دیا جاتا ، تو تم ( اس کو قبول کرنے سے ) پرہیز کرنا “ ۔ انہوں نے صوریا کے دو بیٹوں کا ذکر کیا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، اور آپ نے ان دونوں سے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے تورات کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا اور جس نے سمندر کو چیر دیا ، اور اس ذات کی قسم ! جس نے تم لوگوں پر من و سلوی نازل کیا تم لوگ زیادہ بہتر جانتے ہو ۔ ان دونوں نے کہا: ہم اپنی قوم کو یہ عطیہ ( یا سہولت ) دیتے ہیں ، پھر ان دونوں میں سے ایک نے کہا: یہ ہمیں اس طرح کا واسطہ دے رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے یہ بات پائی ہے کہ دیکھنا بھی زنا ہے ، اور گلے لگانا بھی زنا ہے ، اور بوسہ لینا بھی زنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔