حدیث نمبر: 10546
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَأَبُوهُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ زَمَنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ أَمِيرٌ فَصَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً ، كَأَنَّهَا صَلَاةُ مُسَافِرٍ أَوْ قَرِيبٍ مِنْهَا فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ أَمْ شَيْءٌ تَنَفَّلْتَهُ ؟ قَالَ : إِنَّهَا الْمَكْتُوبَةُ ، وَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَخْطَأْتُ مِنْهَا إِلَّا شَيْئًا سَهَوْتُ عَنْهُ . إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ ، فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ ، فَشَدَّدَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارَاتِ وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ . ¤ ثُمَّ غَدَوْا مِنَ الْغَدِ فَقَالُوا : نَرْكَبُ فَنَنْظُرُ وَنَعْتَبِرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَرَكِبُوا جَمِيعًا فَإِذَا هُمْ بِدِيَارٍ قَفْرٍ ، قَدْ بَادَ أَهْلُهَا وَانْقَرَضُوا وَبَقِيَتْ خَاوِيَةً عَلَى عُرُوشِهَا ، فَقَالُوا : أَتَعْرِفُ هَذِهِ الدِّيَارَ ؟ قَالَ : مَا أَعْرَفَنِي بِهَا وَبِأَهْلِهَا ، هَؤُلَاءِ أَهْلُ دِيَارٍ أَهْلَكَهُمُ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ ، إِنَّ الْحَسَدَ يُطْفِئُ نُورَ الْحَسَنَاتِ ، وَالْبَغْيَ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ . وَالْعَيْنُ تَزْنِي وَالْكَفُّ وَالْقَدَمُ وَالْيَدُ وَاللِّسَانُ ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سہل بن ابوامامہ بیان کرتے ہیں : وہ اور ان کے والد سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے زمانے کی بات ہے وہ امیر تھے انہوں نے مختصر نماز پڑھائی یوں جیسے مسافر کی نماز ہو یا اس کے قریب کی نماز پڑھائی جب انہوں نے سلام پھیر دیا ، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے کیا آپ نے فرض نماز ادا کی ہے یا آپ نے کوئی نفل نماز ادا کی ہے ۔ انہوں نے کہا: یہ فرض نماز تھی اور یہ اللہ کے رسول کی نماز تھی میں نے اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور نہ ہی اس کے بارے میں بھول کا شکار ہوا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم اپنے اوپر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی کچھ لوگوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سختی مسلط کر دی ان لوگوں کے بقایا ( افراد ) گرجا گھروں اور عبادت خانوں میں باقی ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور رہبانیت کو انہوں نے خود ایجاد کیا تھا وہ ہم نے ان پر لازم نہیں کی تھی “ ۔ پھر جب اگلا دن آیا تو لوگوں نے کہا: اب ہم سوار ہو کر جائزہ لیں گے ، اور تحقیق کریں گے انہوں نے کہا: ٹھیک ہے پھر وہ سب لوگ سوار ہو گئے ، تو وہاں ایک ویرانہ تھا ، جہاں آبادی ختم ہو چکی تھی اور صرف کھنڈرات باقی رہ گئے تھے ، لوگوں نے کہا: کیا آپ اس جگہ کو پہچانتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اس جگہ اور یہاں کے رہنے والوں سے مجھ سے زیادہ کوئی واقف نہیں ہے ، یہ اس علاقے کے لوگ ہیں ، جنہیں زنا اور حسد نے ہلاکت کا شکار کر دیا ، بے شک حسد ، نیکیوں کو بجھا دیتا ہے ، اور سرکشی ، اس کی تصدیق کرتی ہے ، یا اس کی تکذیب کرتی ہے ، آنکھ زنا کرتی ہے ، ہتھیلی ، پاؤں ، ہاتھ اور زبان ( زنا کرتے ہیں ) اور شرمگاہ اُن کی تصدیق کرتی ہے یا اس کو جھٹلا دیتی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سعید بن عبدالرحمن بن ابوعمياء کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10546
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3694)»