حدیث نمبر: 10377
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ . ¤
محمد محی الدین

معایہ بن قرہ نے اپنے والد سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ” جنگ قادسیہ کے موقع پر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فارس کے حکمران کو پیغام بھیجا ( کہ وہ اس کو ملنا چاہتے ہیں ) پھر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے ساتھ دس آدمیوں کو بھیجو انہوں نے اپنا لباس پہنا اپنے ساتھ ڈھال رکھی اور پھر روانہ ہو گئے ، یہاں تک کہ فارس کے حکمران کے پاس آئے انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: میرے لئے برلس ڈال دو پھر وہ اس پر تشریف فرما ہوئے اہل ایران کے سردار نے کہا: تم عرب لوگ میں جانتا ہوں کہ تم لوگ کس وجہ سے ہماری طرف آئے ہو تم ایسے لوگ ہو کہ تمہیں اپنے علاقوں میں کھانے کے لئے اتنا کچھ نہیں ملتا کہ جس سے تم سیر ہو سکو تو تم آؤ ہم تمہیں تمہاری ضرورت کے مطابق اناج دے دیتے ہیں کیونکہ ہم مجوس لوگ ہیں ہم تمہیں قتل کرنے کو ناپسند کرتے ہیں ، اور تم نے ہمارے پاس آ کر ہماری سرزمین کو خراب کر دیا ہے ، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ہم اس وجہ سے نہیں آئے ہیں ہم ایسے لوگ تھے کہ ہم پتھروں کی اور بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے جب ہم کوئی پتھر دوسرے پتھر سے زیادہ بہتر دیکھتے تھے ، تو پہلے والے کو پھینک دیتے تھے اور دوسرے والے کو لے لیتے تھے ہمیں اپنے پروردگار کی معرفت ہی نہیں تھی ، یہاں تک کہ اللہ نے ہماری طرف رسول کو مبعوث کیا جو ہم میں سے ہی تھے انہوں نے ہمیں اسلام کی دعوت دی تو ہم نے ان کی پیروی کی ہم اناج لینے کے لئے نہیں آئے ہیں ہمارے دشمنوں میں سے جو شخص اسلام کو ترک کرتا ہے ہمیں اس کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ہم اناج کی خاطر نہیں آئے ہیں ہم تمہارے جنگجو لوگوں کو قتل کرنے کے لئے آئے ہیں ، اور تمہارے بال بچوں کو قیدی بنانے کے لئے آئے ہیں جہاں تک تم نے اناج کا ذکر کیا ہے ، تو مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ہمیں وہ اتنا نہیں ملتا کہ جس کے ذریعے ہم سیر ہو جائیں اور بعض اوقات ہمیں تسلی بخش پانی بھی نہیں ملتا اب ہم تمہاری سرزمین کی طرف آئے ہیں یہاں ہمیں بہت سا اناج ملتا ہے ، تو اللہ کی قسم ہم اس وقت تک یہاں رہیں گے جب تک یہ زمین یا تمہاری نہیں ہو جاتی یا ہماری نہیں ہو جاتی تو ایرانیوں کے سردار نے فارسی میں کہا: اس نے سچ کہا: ہے پھر اس نے فارسی میں کہا: کل تمہاری آنکھ پھوٹ جائے گی تو اگلے دن ان کی آنکھ پھوٹ گئی تھی اسے تیر لگا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10377
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (292/3)»