مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قِتَالِ فَارِسَ وَالرُّومِ وَعَدَاوَتِهِمْ باب: ایرانیوں اور رومیوں سے جنگ کرنا اور ان سے عداوت رکھنا
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ خَثْعَمٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَوَقَفَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَانِي اللَّيْلَةَ الْكَنْزَيْنِ : كَنْزَ فَارِسَ وَالرُّومِ ، وَأَمَدَّنِي بِالْمُلُوكِ مُلُوكِ حِمْيَرَ الْأَحْمَرَيْنِ ، وَلَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ ، يَأْتُونَ يَأْخُذُونَ مِنْ مَالِ اللَّهِ ، وَيُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو هَمَّامٍ الشَّعْبَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : غزوۂ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک رات آپ ٹھہر گئے آپ کے اصحاب آپ کے گرد اکٹھے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آن رات اللہ تعالیٰ نے مجھے دو خزانے عطا کیے ہیں اہل فارس کا خزانہ اور اہل روم کا خزانہ اور اس نے دو بادشاہوں کے ذریعے میری مدد کی ہے حمیر کے دو سرخ بادشاہوں کے ذریعے اور بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے وہ لوگ آئیں گے ، اور اللہ کے مال میں سے لیں گے ، اور اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوہمام شعبانی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔