مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قِتَالِ فَارِسَ وَالرُّومِ وَعَدَاوَتِهِمْ باب: ایرانیوں اور رومیوں سے جنگ کرنا اور ان سے عداوت رکھنا
حدیث نمبر: 10367
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ قَالَ : بَيْنَا أَنَا عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقُلْتُ لَهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَلَيْكُمُ الرُّومُ ، وَإِنَّمَا هَلَكَتُهُمْ مَعَ السَّاعَةِ " . فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : أَلَمْ أَزْجُرْكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا ؟ ! . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگوں کے خلاف سب سے زیادہ سخت رومی ہوں گے کیونکہ ان کی ہلاکت قیامت کے قریب ہو گی “ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا میں نے تمہیں اس طرح کی بات کرنے سے منع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔