حدیث نمبر: 10369
وَعَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ الْيَرْمُوكَ وَعَلَيْنَا خَمْسَةُ أُمَرَاءَ : أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَابْنُ حَسَنَةَ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَعِيَاضٌ - وَلَيْسَ عِيَاضٌ هَذَا الَّذِي حَدَّثَ سِمَاكًا - . ¤ قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ : إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ قِتَالٌ فَعَلَيْكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ ، قَالَ : فَكَتَبْنَا إِلَيْهِ : إِنَّهُ قَدْ جَاشَ إِلَيْنَا الْمَوْتُ ، وَاسْتَمْدَدْنَاهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْنَا : إِنَّهُ قَدْ جَاءَنِي كِتَابُكُمْ تَسْتَمِدُّونِي ، وَإِنِّي أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَعَزُّ نَصْرًا ، وَأَحْضَرُ جُنْدًا: [ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ] ، فَاسْتَنْصِرُوهُ ; فَإِنَّ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ نُصِرَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي أَقَلَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كِتَابِي هَذَا فَقَاتِلُوهُمْ وَلَا تُرَاجِعُونِي . ¤ قَالَ : فَقَاتَلْنَاهُمْ فَقَتَلْنَاهُمْ وَهَزَمْنَاهُمْ أَرْبَعَةَ فَرَاسِخَ . قَالَ : وَأَصَبْنَا أَمْوَالًا فَتَشَاوَرْنَا ، فَأَشَارَ عَلَيْنَا عِيَاضٌ أَنْ نُعْطِيَ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ عَشَرَةً . ¤ قَالَ : وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَنْ يُرَاهِنِّي ؟ فَقَالَ شَابٌّ : أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ ؟ قَالَ : فَسَبَقَهُ فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ ، وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرِيٍّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں یرموک میں شریک ہوا ہوں پانچ افراد ہمارے امیر تھے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سیدنا جریر بن ابوسفیان رضی الله عنہ سیدنا ابن حسنہ رضی الله عنہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ یہ سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ وہ نہیں ہیں ، جنہوں نے سماک کو یہ حدیث بیان کی ہے : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب لڑائی ہو ، تو تمہارے امیر ابوعبیدہ ہوں گے راوی کہتے ہیں : ہم نے انہیں خط لکھا کہ موت ہماری طرف بہہ کر آ رہی ہے ہم نے ان سے مدد مانگی تھی تو انہوں نے ہمیں جوابی خط میں لکھا کہ تمہارا مکتوب میرے پاس آیا جس میں تم نے مجھ سے امداد مانگی ہے ، اور میں تمہاری طرف وہ چیز بھیج رہا ہوں جو مدد کرنے میں زیادہ غلبے والا ہے ، اور لڑائی میں زیادہ حاضر ہونے والا ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے تم لوگ اس سے مدد مانگو کیونکہ جب سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی غزوہ بدر کے موقع پر مدد کی گئی تھی تو مسلمانوں کی تعداد تم لوگوں سے کم تھی جب میرا مکتوب تمہارے پاس آئے ، تو تم دشمن سے لڑنا اور دوبارہ میری طرف رجوع نہ کرنا راوی کہتے ہیں : ہم نے دشمن سے مقابلہ کیا ہم نے انہیں قتل کر کے انہیں چار فرسخ تک پسپا کر دیا ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں اموال حاصل ہوئے ان اموال کے بارے میں ہم نے باہمی طور پر مشورہ کیا ، تو سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ مشورہ دیا کہ ہم ہر فرد کی طرف سے دس ادا کریں راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کون میرے ساتھ گھڑ دوڑ کا مقابلہ کرے گا تو ایک نوجوان نے کہا: میں اگر آپ غصہ نہ کریں راوی کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے آگے نکل گیا اور میں نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بال اڑتے ہوئے جا رہے تھے اور وہ اس نوجوان کے پیچھے اپنے گھوڑے کی برہنہ پشت پر سوار تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10369
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح