کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ایرانیوں اور رومیوں سے جنگ کرنا اور ان سے عداوت رکھنا
حدیث نمبر: 10363
عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الرُّومِ ، وَيَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى فَارِسَ ، وَيَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مسلمان رومیوں پر غالب آ جائیں گے مسلمان ایرانیوں پر غالب آ جائیں گے مسلمان جزیرہ نما عرب پر غالب آ جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10363
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1847)»
حدیث نمبر: 10364
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْفَقْرَ وَالْعُرْيَ وَقِلَّةَ الشَّيْءِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَبْشِرُوا فَوَاللَّهِ لَأَنَا لِكَثْرَةِ الشَّيْءِ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِلَّتِهِ ، وَاللَّهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِيكُمْ حَتَّى يُفْتَحَ لَكُمْ جُنْدٌ بِالشَّامِ ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ الْمِائَةَ فَيَسْخَطُهَا " . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ : وَمَتَى نَسْتَطِيعُ الشَّامَ مَعَ الرُّومِ ذَاتِ الْقُرُونِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيَفْتَحُهَا لَكُمْ ، وَيَسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا حَتَّى تَظَلَّ الْعِصَابَةُ مِنْهَا الْبِيضَ قُمُصُهُمْ ، الْمُحَلَّقَةُ أَقْفَاؤُهُمْ ، قِيَامًا عَلَى الرُّوَيْجِلِ الْأُسَيْوِدِ مِنْكُمْ ، مَا أَمَرَهُمْ بِشَيْءٍ فَعَلُوهُ ، وَإِنَّ بِهَا الْيَوْمَ رِجَالًا لَأَنْتُمْ أَحْقَرُ فِي أَعْيُنِهِمْ مِنَ الْقِرْدَانِ فِي أَعْجَازِ الْإِبِلِ " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے لوگوں نے آپ کے سامنے غربت اور مناسب لباس نہ ہونے کی شکایت کی اور چیزوں کی کمی کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ اللہ کی قسم مجھے تم لوگوں کے حوالے سے چیزوں کی کمی کی بجائے ان کی کثرت کا زیادہ اندیشہ ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس معاملے کو مسلسل تمہارے درمیان رکھے گا ، یہاں تک کہ شام میں ایک لشکر تمہارے لئے فتح ہو جائے گا عراق میں ایک لشکر فتح ہو جائے یمن میں ایک لشکر فتح ہو جائے گا ، یہاں تک کہ کسی شخص کو ایک سو ( درہم یا دینار یا اونٹ ) دیئے جائیں گے ، تو وہ اس سے ناراض ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم رومیوں کے ساتھ شامیوں پر ق ابوپائیں گے جبکہ وہ لڑاکے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تمہارے لئے فتح ہو گا اور تم وہاں پر حکمران بنو گے ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک گروہ ایسا آئے گا جن کی قمیصیں سفید ہوں گی اور ان کی گدیاں مونڈی ہوئی ہوں گی وہ چھوٹی ٹانگوں پر کھڑے ہوں گے ، لوگ انہیں جو بھی حکم دیں گے وہ اس کو پورا کریں گے ، اور آج وہاں ایسے لوگ ہیں کہ ان کی نظروں میں تم اس سے زیادہ حقیر ہو کہ جتنا اونٹ کی پشت پر موجود کوئی چیچڑی ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف نصر بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10364
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 10365
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَزَّاحٍ قَدِيمًا لَهُ صُحْبَةٌ ، يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يُؤَمَّرَ عَلَيْهِمُ الرُّوَيْجِلُ فَيَجْتَمِعُ إِلَيْهِ قَوْمٌ ، مُحَلَّقَةٌ أَقْفِيَتُهُمْ ، بِيضٌ قُمُصُهُمْ ، فَكَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ بِشَيْءٍ حَضَرُوا " . ¤ فَشَاءَ رَبُّكَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَزَّاحٍ وَلِيَ بَعْضَ الْمُدُنِ ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ قَوْمٌ مِنَ الدَّهَاقِينِ مُحَلَّقَةٌ أَقْفِيَتُهُمْ ، بَيْضٌ قُمُصُهُمْ ، فَكَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ بِشَيْءٍ حَضَرُوا ، فَيَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن وزاح رضی اللہ عنہ جنہیں قدیم زمانے میں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہوا تھا وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب ایسا ہو گا کہ ان لوگوں پر ایک چھوٹا شخص امیر بنے گا لوگ اس کے گرد اکٹھے ہوں گے ان لوگوں کی گدیاں مونڈی ہوئی ہوں گی ان کی قمیصیں سفید ہوں گی جب وہ انہیں کسی چیز کے بارے میں حکم دے گا ، تو وہ لوگ حاضر ہو جائیں گے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک وقت آیا کہ جب سیدنا عبداللہ بن وزاح رضی اللہ عنہ وہاں کے ایک علاقے کے امیر بن گئے ، تو دہقانوں کی ایک قوم ان کے پاس اکٹھی ہوئی جن کی گدیاں مونڈی ہوئی تھیں اور ان کی قمیصیں سفید تھیں جب سیدنا عبداللہ بن وزاح رضی اللہ عنہ انہیں کوئی حکم دیتے تھے ، تو وہ حاضر ہو جاتے تھے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10365
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 10366
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَمَثَّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلَابِ ، وَإِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا " . ¤ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَبْ لِي بِنْتَ بُقَيْلَةَ ، فَقَالَ : " هِيَ لَكَ " . فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهَا فَجَاءَ أَخُوهَا ، فَقَالَ : أَتَبِيعُهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَاحْتَكِمْ مَا شِئْتَ . قَالَ : بِأَلْفِ دِرْهَمٍ . قَالَ : قَدْ أَخَذْتُهَا بِأَلْفٍ . قَالُوا لَهُ : لَوْ قُلْتَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا . قَالَ : وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَلَهُ طَرِيقٌ مِنْ حَدِيثِ صَاحِبِ الْقِصَّةِ فِي قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حیرہ کو میرے سامنے کتوں کے دانتوں کی شکل میں پیش کیا گیا تم عنقریب اسے فتح کر لو گے ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بقیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہاری ہوئی ان لوگوں نے ( جب وہ شہر فتح ہوا ) تو وہ عورت ان صاحب کو دے دی اس عورت کے بھائی آئے اور کہا: کہ کیا تم اسے فروخت کرو گے اس نے کہا: ٹھیک ہے ۔ انہوں نے کہا: پھر تم جو چاہو وہ طے کر دو اس نے کہا: ایک ہزار درہم ، اس کے بھائی نے کہا: میں ایک ہزار درہم کے عوض میں اسے لیتا ہوں لوگوں نے ان صاحب سے کہا: اگر تم تیس ہزار درہم بھی کہہ دیتے تو انہوں نے دیدیئے تھے ۔ انہوں نے کہا: کیا ایک ہزار سے بڑا عدد بھی کوئی ہوتا ہے “ ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو مرتدین کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں اس قصہ والے فرد سے منقول حدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10366
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (81/17)»
حدیث نمبر: 10367
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ قَالَ : بَيْنَا أَنَا عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقُلْتُ لَهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَلَيْكُمُ الرُّومُ ، وَإِنَّمَا هَلَكَتُهُمْ مَعَ السَّاعَةِ " . فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : أَلَمْ أَزْجُرْكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا ؟ ! . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگوں کے خلاف سب سے زیادہ سخت رومی ہوں گے کیونکہ ان کی ہلاکت قیامت کے قریب ہو گی “ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا میں نے تمہیں اس طرح کی بات کرنے سے منع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10367
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (230/4)»
حدیث نمبر: 10368
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ خَثْعَمٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَوَقَفَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَانِي اللَّيْلَةَ الْكَنْزَيْنِ : كَنْزَ فَارِسَ وَالرُّومِ ، وَأَمَدَّنِي بِالْمُلُوكِ مُلُوكِ حِمْيَرَ الْأَحْمَرَيْنِ ، وَلَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ ، يَأْتُونَ يَأْخُذُونَ مِنْ مَالِ اللَّهِ ، وَيُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو هَمَّامٍ الشَّعْبَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : غزوۂ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک رات آپ ٹھہر گئے آپ کے اصحاب آپ کے گرد اکٹھے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آن رات اللہ تعالیٰ نے مجھے دو خزانے عطا کیے ہیں اہل فارس کا خزانہ اور اہل روم کا خزانہ اور اس نے دو بادشاہوں کے ذریعے میری مدد کی ہے حمیر کے دو سرخ بادشاہوں کے ذریعے اور بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے وہ لوگ آئیں گے ، اور اللہ کے مال میں سے لیں گے ، اور اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوہمام شعبانی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (272/5)»
حدیث نمبر: 10369
وَعَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ الْيَرْمُوكَ وَعَلَيْنَا خَمْسَةُ أُمَرَاءَ : أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَابْنُ حَسَنَةَ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَعِيَاضٌ - وَلَيْسَ عِيَاضٌ هَذَا الَّذِي حَدَّثَ سِمَاكًا - . ¤ قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ : إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ قِتَالٌ فَعَلَيْكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ ، قَالَ : فَكَتَبْنَا إِلَيْهِ : إِنَّهُ قَدْ جَاشَ إِلَيْنَا الْمَوْتُ ، وَاسْتَمْدَدْنَاهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْنَا : إِنَّهُ قَدْ جَاءَنِي كِتَابُكُمْ تَسْتَمِدُّونِي ، وَإِنِّي أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَعَزُّ نَصْرًا ، وَأَحْضَرُ جُنْدًا: [ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ] ، فَاسْتَنْصِرُوهُ ; فَإِنَّ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ نُصِرَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي أَقَلَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كِتَابِي هَذَا فَقَاتِلُوهُمْ وَلَا تُرَاجِعُونِي . ¤ قَالَ : فَقَاتَلْنَاهُمْ فَقَتَلْنَاهُمْ وَهَزَمْنَاهُمْ أَرْبَعَةَ فَرَاسِخَ . قَالَ : وَأَصَبْنَا أَمْوَالًا فَتَشَاوَرْنَا ، فَأَشَارَ عَلَيْنَا عِيَاضٌ أَنْ نُعْطِيَ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ عَشَرَةً . ¤ قَالَ : وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَنْ يُرَاهِنِّي ؟ فَقَالَ شَابٌّ : أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ ؟ قَالَ : فَسَبَقَهُ فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ ، وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرِيٍّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں یرموک میں شریک ہوا ہوں پانچ افراد ہمارے امیر تھے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سیدنا جریر بن ابوسفیان رضی الله عنہ سیدنا ابن حسنہ رضی الله عنہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ یہ سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ وہ نہیں ہیں ، جنہوں نے سماک کو یہ حدیث بیان کی ہے : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب لڑائی ہو ، تو تمہارے امیر ابوعبیدہ ہوں گے راوی کہتے ہیں : ہم نے انہیں خط لکھا کہ موت ہماری طرف بہہ کر آ رہی ہے ہم نے ان سے مدد مانگی تھی تو انہوں نے ہمیں جوابی خط میں لکھا کہ تمہارا مکتوب میرے پاس آیا جس میں تم نے مجھ سے امداد مانگی ہے ، اور میں تمہاری طرف وہ چیز بھیج رہا ہوں جو مدد کرنے میں زیادہ غلبے والا ہے ، اور لڑائی میں زیادہ حاضر ہونے والا ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے تم لوگ اس سے مدد مانگو کیونکہ جب سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی غزوہ بدر کے موقع پر مدد کی گئی تھی تو مسلمانوں کی تعداد تم لوگوں سے کم تھی جب میرا مکتوب تمہارے پاس آئے ، تو تم دشمن سے لڑنا اور دوبارہ میری طرف رجوع نہ کرنا راوی کہتے ہیں : ہم نے دشمن سے مقابلہ کیا ہم نے انہیں قتل کر کے انہیں چار فرسخ تک پسپا کر دیا ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں اموال حاصل ہوئے ان اموال کے بارے میں ہم نے باہمی طور پر مشورہ کیا ، تو سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ مشورہ دیا کہ ہم ہر فرد کی طرف سے دس ادا کریں راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کون میرے ساتھ گھڑ دوڑ کا مقابلہ کرے گا تو ایک نوجوان نے کہا: میں اگر آپ غصہ نہ کریں راوی کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ وہ نوجوان سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے آگے نکل گیا اور میں نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بال اڑتے ہوئے جا رہے تھے اور وہ اس نوجوان کے پیچھے اپنے گھوڑے کی برہنہ پشت پر سوار تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10369
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 10370
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ أُمَرَاءَ عَلَى الشَّامِ ، فَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ سَعِيدٍ عَلَى جُنْدٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امراء کو شام بھیجا تو آپ نے سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر مقرر کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ زہری نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10370
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 10371
وَعَنْ خُبَيْبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ أُصِيبُوا يَوْمَ الْيَرْمُوكِ ، فَدَعَا الْحَارِثُ بِشَرَابٍ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عِكْرِمَةُ ، فَقَالَ : ادْفَعُوهُ إِلَى عِكْرِمَةَ ، فَدُفِعَ إِلَيْهِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ : ادْفَعُوهُ إِلَى عَيَّاشٍ ، فَمَا وَصَلَ إِلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ حَتَّى مَاتُوا جَمِيعًا ، وَمَا ذَاقُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَخُبَيْبٌ لَمْ يُدْرِكِ الْيَرْمُوكَ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خبیب بن ابوثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ سیدنا عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا عیاش بن ابوربیعہ رضی اللہ عنہ جنگ یرموک میں شدید زخمی ہو چکے تھے سیدنا حارث رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا عکرمہ اس ( پانی ) کی طرف دیکھ رہے تھے ، تو انہوں نے کہا: یہ پہلے عکرمہ کو دے دو دینے والے نے سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھایا تو سیدنا عیاش بن ابوربیعہ رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھ رہے تھے ، تو سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عیاش کو دے دو وہ پانی ان میں سے کسی تک نہیں پہنچا ، یہاں تک کہ ان تینوں کا انتقال ہو گیا اور انہوں نے اس پانی کو چکھا بھی نہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے حبیب نامی راوی نے جنگ یرموک کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3342)»
حدیث نمبر: 10372
وَعَنْ مُهَاجِرِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ ابْنَةَ عَمِّ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَتَلَتْ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ تِسْعَةً مِنَ الرُّومِ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مہاجر بن بیان کرتے ہیں : دینار سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بنت یزید بن سکن ، جو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی چچا زاد تھیں جنگ یرموک کے موقع پر انہوں نے خیمے کی لکڑی کے ذریعے نو رومیوں کو قتل کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10372
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 10373
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : سَمِعَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَجُلًا يَقُولُ : أَيْنَ الزَّاهِدُونَ فِي الدُّنْيَا الرَّاغِبُونَ فِي الْآخِرَةِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أُولَئِكَ ذَهَبُوا ، أَصْحَابُ الْجَابِيَةِ . اشْتَرَطَ خَمْسُمِائَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ لَا يَرْجِعُوا حَتَّى يُقْتَلُوا ، فَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَقُتِلُوا ، إِلَّا مُخْبِرًا عَنْهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَهُوَ كَثِيرُ الْخَطَأِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : دنیا سے بے رغبتی رکھنے والے اور آخرت سے رغبت رکھنے والے لوگ کہاں ہیں ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ لوگ تو چلے گئے ہیں یہ جابیہ والے لوگ تھے پانچ سو مسلمانوں نے یہ طے کیا تھا کہ وہ واپس نہیں جائیں گے ، یہاں تک کہ شہید ہو جائیں گے انہوں نے اپنے سر مونڈ لئے تھے دشمن کا سامنا کیا تھا ، اور سب شہید ہو گئے تھے صرف وہ شخص بچا تھا جس نے ان کے بارے میں خبر دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے وہ بکثرت غلطی کرنے والا شخص ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10373
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف