حدیث نمبر: 10366
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَمَثَّلَتْ لِيَ الْحِيرَةُ كَأَنْيَابِ الْكِلَابِ ، وَإِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَهَا " . ¤ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَبْ لِي بِنْتَ بُقَيْلَةَ ، فَقَالَ : " هِيَ لَكَ " . فَأَعْطَوْهُ إِيَّاهَا فَجَاءَ أَخُوهَا ، فَقَالَ : أَتَبِيعُهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَاحْتَكِمْ مَا شِئْتَ . قَالَ : بِأَلْفِ دِرْهَمٍ . قَالَ : قَدْ أَخَذْتُهَا بِأَلْفٍ . قَالُوا لَهُ : لَوْ قُلْتَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا . قَالَ : وَهَلْ عَدَدٌ أَكْثَرُ مِنْ أَلْفٍ ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَلَهُ طَرِيقٌ مِنْ حَدِيثِ صَاحِبِ الْقِصَّةِ فِي قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حیرہ کو میرے سامنے کتوں کے دانتوں کی شکل میں پیش کیا گیا تم عنقریب اسے فتح کر لو گے ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بقیلہ کی بیٹی مجھے ہبہ کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہاری ہوئی ان لوگوں نے ( جب وہ شہر فتح ہوا ) تو وہ عورت ان صاحب کو دے دی اس عورت کے بھائی آئے اور کہا: کہ کیا تم اسے فروخت کرو گے اس نے کہا: ٹھیک ہے ۔ انہوں نے کہا: پھر تم جو چاہو وہ طے کر دو اس نے کہا: ایک ہزار درہم ، اس کے بھائی نے کہا: میں ایک ہزار درہم کے عوض میں اسے لیتا ہوں لوگوں نے ان صاحب سے کہا: اگر تم تیس ہزار درہم بھی کہہ دیتے تو انہوں نے دیدیئے تھے ۔ انہوں نے کہا: کیا ایک ہزار سے بڑا عدد بھی کوئی ہوتا ہے “ ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو مرتدین کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں اس قصہ والے فرد سے منقول حدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10366
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (81/17)»