حدیث نمبر: 10348
عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ رِعْيَةَ السُّحَيْمِيِّ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَدِيمٍ أَحْمَرَ ، فَأَخَذَ كِتَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَقَعَ بِهِ دَلْوَهُ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فَلَمْ يَدَعُوا لَهُ سَارِحَةً وَلَا رَائِحَةً ، وَلَا أَهْلًا وَلَا مَالًا إِلَّا أَخَذُوهُ . وَانْفَلَتَ عُرْيَانًا عَلَى فَرَسٍ لَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ سُتْرَةٌ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى ابْنَتِهِ وَهِيَ مُتَزَوِّجَةٌ فِي بَنِي هِلَالٍ ، وَقَدْ أَسْلَمَتْ ، وَأَسْلَمَ أَهْلُهَا ، وَكَانَ مَجْلِسُ الْقَوْمِ بِفِنَاءِ بَيْتِهَا فَدَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْبَيْتِ . ¤ فَلَمَّا رَأَتْهُ أَلْقَتْ عَلَيْهِ [ ثَوْبًا ] ، قَالَتْ : مَا لَكَ ؟ قَالَ : كُلُّ الشَّرِّ قَدْ نَزَلَ بِأَبِيكِ ، مَا تُرِكَ لَهُ سَارِحَةٌ وَلَا رَائِحَةٌ ، وَلَا أَهْلٌ وَلَا مَالٌ [ إِلَّا وَقَدْ أُخِذَ ] ، قَالَتْ : دُعِيتَ إِلَى الْإِسْلَامِ ، قَالَ : أَيْنَ بَعْلُكِ ؟ قَالَتْ : فِي الْإِبِلِ ، قَالَ : فَأَتَاهُ ، قَالَ : مَا لَكَ ؟ فَقَالَ : كُلُّ الشَّرِّ قَدْ نَزَلَ بِهِ ، مَا تُرِكَ لَهُ رَائِحَةٌ وَلَا سَارِحَةٌ ، وَلَا أَهْلٌ وَلَا مَالٌ إِلَّا أُخِذَ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا أُبَادِرُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْسِمَ مَالِي وَأَهْلِي ، قَالَ : خُذْ رَاحِلَتِي بِرَحْلِهَا ، قَالَ : لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا . ¤ قَالَ : فَأَخَذَ قَعُودَ الرَّاعِي ، وَزَوَّدَهُ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ إِذَا غَطَّى وَجْهَهُ خَرَجَتِ اسْتُهُ ، وَإِذَا غَطَّى اسْتَهُ خَرَجَ وَجْهُهُ ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يُعْرَفَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَدِينَةِ فَعَقَلَ رَاحِلَتَهُ ، ثُمَّ أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ بِحِذَائِهِ حَيْثُ يُقِيلُ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَجْرَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ ، قَالَ : فَبَسَطَهَا ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ عَلَيْهَا قَبَضَهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا وَيَفْعَلُهُ . فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ ، قَالَ : " مَنْ أَنْتَ ؟ " . قَالَ : أَنَا رِعَيْةُ السُّحَيْمِيُّ ، قَالَ : فَتَنَاوَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَضُدَهُ ثُمَّ رَفَعَهُ ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، هَذَا رِعْيَةُ السُّحَيْمِيُّ الَّذِي كَتَبْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذَ كِتَابِي فَرَقَعَ بِهِ دَلْوَهُ " فَأَخَذَ يَتَضَرَّعُ إِلَيْهِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَهْلِي وَمَالِي . قَالَ : " أَمَّا مَالُكَ فَقَدْ قُسِمَ ، وَأَمَّا أَهْلُكَ فَمَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ مِنْهُمْ " . ¤ فَإِذَا ابْنُهُ قَدْ عَرَفَ الرَّاحِلَةَ وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَهَا فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا ابْنِي ، فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، اخْرُجْ مَعَهُ فَسَلْهُ : أَبُوكَ هَذَا ؟ فَإِنْ قَالَ نَعَمْ ، فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ " . فَخَرَجَ إِلَيْهِ ، قَالَ : أَبُوكَ هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا اسْتَعْبَرَ لِصَاحِبِهِ ، قَالَ : " ذَاكَ جَفَاءُ الْأَعْرَابِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، أَحَدُهُمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ هَذَا ، وَالْآخَرُ مُرْسَلٌ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْ رِعْيَةَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

امام شعبی نے سیدنا رعیہ سحیمی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ چمڑے میں ان کی طرف مکتوب لکھا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب لیا اور اس کے ذریعے اپنے ڈول میں پیوند لگا دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی اس مہم ( کے افراد ) نے ان صاحب کے کسی بھی جانور یا اہل خانہ یا مال کو نہیں چھوڑا سب کچھ حاصل کر لیا وہ صاحب اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر برہنہ حالت میں وہاں سے نکل کھڑے ہوئے ان کے جسم پر ڈھانپنے کے لئے کوئی چیز نہیں تھی ، یہاں تک کہ وہ اپنی بیٹی کے علاقے میں پہنچ گئے جس کی شادی بنو ہلال میں ہوئی تھی وہ خاتون اور اس کے اہل خانہ مسلمان ہو چکے تھے ان کے گھر میں لوگ گھر کے صحن میں بیٹھا کرتے تھے وہ شخص گھوم کر گھر کے پیچھے والے حصے سے گھر میں داخل ہوئے جب ان کی صاحبزادی نے ان کی یہ حالت دیکھی تو انہیں ایک کپڑا دیا ، اور دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا : ہر قسم کی خرابی تمہارے باپ پر نازل ہو گئی ہے ان لوگوں نے کوئی جانور اہل خانہ میں سے کوئی فرد اور مال نہیں چھوڑا سب کچھ لے لیا ہے اس خاتون نے کہا: آپ کو اسلام کی طرف دعوت دی گئی تھی ان صاحب نے دریافت کیا : تمہارا شوہر کہاں ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : اونٹوں میں ہے وہ صاحب ان صاحب کے پاس گئے ، تو انہوں نے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا : ہر قسم کی خرابی انہیں لاحق ہوئی ہے ان کا کوئی جانور مال مویشی اہل خانہ میں سے کوئی فرد مال میں سے کچھ بھی نہیں بچا سب کچھ لے لیا گیا ہے اب میں یہ چاہتا ہوں کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں اور اس سے پہلے ان تک پہنچ جاؤں کہ وہ میرے مال اور اہل خانہ کو تقسیم کر چکے ہوں تو ان کے داماد نے کہا: آپ میری سواری اس کے پالان سمیت لے لیں انہوں نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے ایک چرواہے کا سامان لیا اور پانی کا مشکیزہ لیا وہ وہاں سے نکلے ان کے جسم پر ایسا کپڑا تھا کہ جب اس کے ذریعے چہرے کو ڈھانپتے تھے ، تو شرمگاہ بے پردہ ہو جاتی تھی اور جب شرمگاہ کو ڈھانپتے تھے ، تو چہرہ نکل آتا تھا وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے ان کی شناخت ہو انہوں نے اپنی سواری کو باندھا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر چکے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کر لی تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنا ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ کی بیعت کر لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا جب ان صاحب نے اس پر ہاتھ مارنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پیچھے کر لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا تین مرتبہ کیا وہ صاحب ایسا ہی کرتے رہے جب تیسری مرتبہ ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں رعیہ سحیمی ہوں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بازو پکڑا اور پھر اسے بلند کیا اور پھر کہا: اے مسلمانوں کے گروہ یہ رعیہ سحیمی ہے ۔ جسے میں نے خط لکھا تھا ، اور اس نے میرے مکتوب کے ذریعے اپنے ڈول کو پیوند لگا دیا تھا پھر وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گریہ وزاری کرنے لگے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے اہل خانہ اور میرا مال ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے مال کا تعلق ہے ، تو وہ تقسیم ہو چکا ہے جہاں تک تمہارے اہلخانہ کا تعلق ہے ، تو ان میں سے جو تمہیں ملتا ہے وہ تم لے لو اس دوران اُن کا بیٹا سواری کو پہچان چکا تھا ، اور اس سواری کے پاس کھڑا ہوا تھا وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور بولے : یا رسول اللہ یہ میرا بیٹا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال تم اس کے ساتھ نکل کر جاؤ اور اس بچے سے پوچھو کہ یہ تمہارا باپ ہے اگر وہ جواب دے جی ہاں تو اس بچے کو اس کے حوالے کر دینا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نکل کر اس کی طرف گئے ، اور دریافت کیا : کیا یہ تمہارا باپ ہے اس بچے نے جواب دیا جی ہاں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور بولے : یا رسول اللہ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو اپنے متعلقہ فرد کے لئے اتنا غمگین ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دیہاتیوں کی مخصوص سختی ہے ۔
یہ روایت امام احد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور وہ یہ روایت ہے جبکہ دوسری روایت ” مرسل “ ہے ، جو ابوعمرو شیبانی کے حوالے سے منقول ہے اس میں انہوں نے یہ بات بیان نہیں کی کہ یہ سیدنا رعیہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10348
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ایک
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4635) اخرجه احمد فى المسند (285/5)»