مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ السَّرَايَا وَالْبُعُوثِ باب: چھوٹی بڑی جنگی مہمات کعب بن اشرف کا قتل
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - قَالَ : كَانَ كَعْبُ بْنُ الْأَشْرَفِ يَهْجُو رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عِنْدَ أَبِي وَدَاعَةَ بِمَكَّةَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ فَهَجَاهُ . ¤ فَلَمَّا بَلَغَ قُرَيْشًا هِجَاءُ حَسَّانَ أَبَا وَدَاعَةَ أَخْرَجُوا كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ وَأَبَا عَبْسِ بْنَ جَبْرٍ ، وَأَبَا نَائِلَةَ ، فَقَتَلُوا كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ بِشَرْجِ الْعُجُولِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کعب بن اشرف نے مکہ میں ابووداعہ کے پاس موجود رہ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، تو انہوں نے اس کی ہجو کی جب قریش کو اس بات کا پتہ چلا کہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے ابووداعہ کی ہجو کی ہے ، تو ان لوگوں نے کعب بن اشرف کو وہاں سے نکال دیا جب وہ مدینہ منورہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے محمد بن مسلمہ ابوعبس بن جبر اور ابونائلہ کو بھیجا ان لوگوں نے بنوامیہ بن زید کے علاقے میں عجول نامی نالے کے پاس کعب بن اشرف کو قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔