حدیث نمبر: 10328
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَبَلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً [ الَّذِي يَرُدُّهُ ] ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ : " أَنْ لَا يَسْبِقَنِي فِي الْمَاءِ أَحَدٌ " . فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ قَوْمٌ فَلَعَنَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ کو یہ اطلاع ملی کہ پانی کم ہے اس جگہ پر جہاں لوگ آ گئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ مجھ سے پہلے پانی تک کوئی نہ پہنچے تو کچھ لوگ آپ سے پہلے اس تک پہنچ چکے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10328
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1845) اخرجه احمد فى المسند (400/5)»