حدیث نمبر: 10329
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذٌ الْعَقَبَةَ فَلَا يَأْخُذْهَا أَحَدٌ . فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُودُهُ عَمَّارٌ ، وَيَسُوقُهُ حُذَيْفَةُ إِذْ أَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمُونَ عَلَى الرَّوَاحِلِ حَتَّى غَشَوْا عَمَّارًا وَهُوَ يَسُوقُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقْبَلَ عَمَّارٌ يَضْرِبُ وَجُوهُ الرَّوَاحِلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحُذَيْفَةَ : " قَدْ قَدْ " . حَتَّى هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَ وَرَجَعَ عَمَّارٌ . فَقَالَ : " يَا عَمَّارُ ، هَلْ عَرَفْتَ الْقَوْمَ ؟ " قَالَ : قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ ، وَالْقَوْمُ مُتَلَثِّمُونَ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا أَرَادُوا ؟ " قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَطْرَحُوهُ " . ¤ قَالَ : فَسَارَّ عَمَّارٌ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ مَا كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ ؟ قَالَ : أَرْبَعَةَ عَشَرَ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ . ¤ فَعَذَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُمْ ثَلَاثَةً ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَشْهَدُ أَنَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الْبَاقِينَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، وَالْحَيَاةِ الدُّنْيَا ، وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ . ¤ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ : وَذَكَرَ أَبُو الطُّفَيْلِ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلنَّاسِ ، وَذُكِرَ لَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنَادِيًا فَنَادَى : لَا يَرِدُ الْمَاءَ أَحَدٌ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَرَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ رَهْطًا قَدْ وَرَدُوهُ قَبْلَهُ ، فَلَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لئے جا رہے تھے ، تو آپ نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ اللہ کے رسول گھاٹی کی طرف جا رہے ہیں ، تو کوئی شخص اس طرف نہ جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جا رہے تھے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آپ کے جانور کو لے کے چل رہے تھے اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اسے ہانک رہے تھے اسی دوران کچھ لوگ آئے جو مختلف سواریوں پر سوار تھے اور انہوں نے ڈھاٹے باندھے ہوئے تھے ان لوگوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانور کو لے کے چل رہے تھے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی سواریوں کے چہروں پر مارنا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم لے کے چلو تم لے کے چلو یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے اتر آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے اتر آئے ، تو آپ نے پڑاؤ کیا سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس آ گئے آپ نے دریافت کیا : اے عمار کیا تم ان لوگوں کو پہچانتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں ان کی زیادہ تر سواریوں کو پہچان لوں گا لیکن لوگوں نے منہ پر کپڑا لیا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو ان کا ارادہ کیا تھا ۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کو ایک طرف لے جائیں اور انہیں شہید کر دیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ( بعد کے زمانے میں ) ایک مرتبہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا ایک صحابی کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں اس موقع پر گھاٹی میں آنے والے افراد کتنے تھے اس نے جواب دیا چودہ افراد تھے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان میں سے ایک تھے ، تو پھر وہ پندرہ ہوں گے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے تین افراد کو معذور قرار دے دیا تھا انہوں نے یہ عرض کی تھی : اللہ کی قسم ہم نے اللہ کے رسول کے منادی کی بات نہیں سنی تھی اور ہمیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ دوسرے لوگوں کا کیا ارادہ ہے ۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ان میں سے جو باقی کے بارہ افراد تھے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیاوی زندگی میں اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی اور اس دن بھی جنگ کی جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔ ابوالولید کہتے ہیں ابوطفیل نے اس غزوہ میں یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے یہ بات ذکر کی تھی یا آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ یہاں پانی کم ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو یہ حکم دیا تھا تو اس نے یہ اعلان کیا تھا کہ اللہ کے رسول سے پہلے کوئی پانی تک نہ جائے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی تک پہنچے تو آپ نے کچھ لوگوں کو پایا کہ وہ آپ سے پہلے وہاں تک پہنچ چکے تھے ، تو اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10329
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (453/5)»