مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ تَبُوكَ باب: غزوہ تبوک کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : حَدِّثْنَا عَنْ شَأْنِ الْعُسْرَةِ ، فَقَالَ عُمَرُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ شَدِيدٌ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا يَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْخَلَاءَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى يَظُنَّ أَنَّ رَقَبَتَهُ تَنْقَطِعُ ، وَحَتَّى إِنِ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبَهُ ، وَيَضَعَهُ عَلَى بَطْنِهِ . ¤ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ عَوَّدَكَ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا فَادْعُ اللَّهَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتُحِبُّ ذَلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ فَلَمْ يَرْجِعْهُمَا حَتَّى قَالَتِ السَّمَاءُ : فَأَظَلَّتْ ثُمَّ سَكَبَتْ ، فَمَلَئُوا مَا مَعَهُمْ ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَجِدْهَا جَاوَزَتِ الْعَسْكَرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا آپ ہمیں غزوہ تبوک کے بارے میں بتائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کی طرف روانہ ہوئے یہ شدید گرمی کا موسم تھا ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں ہمیں شدید پیاس لاحق ہو چکی تھی ، یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہماری گردنیں کٹ جائیں گی ، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کے لئے جاتا تھا تو واپس آنے سے پہلے اسے یہ لگتا تھا کہ اس کی گردن کٹ جائے گی ، یہاں تک کہ جب کوئی شخص اپنا اونٹ ذبح کرتا تھا تو وہ اس کی لید کو نچوڑ لیتا تھا ، اور اسے پی لیتا تھا ، اور اسے اپنے پیٹ پر رکھ لیتا تھا ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا میں برکت رکھی ہے تو آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابوبکر کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے ابھی آپ کے ہاتھ نیچے نہیں آئے تھے کہ آسمان سے بارش نازل ہونے لگی اور اتنی بارش ہوئی کہ لوگوں نے اپنے پاس موجود سب چیزیں بھر لیں پھر ہم نے جائزہ لیا تو ہمیں پتہ چلا کہ شکر والے علاقے کے علاوہ کہیں بارش نہیں ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔