مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ تَبُوكَ باب: غزوہ تبوک کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَسْأَلُوا عَنِ الْآيَاتِ - أَوْ : لَا تَسْأَلُوا نَبِيَّكُمُ الْآيَاتِ - فَإِنَّ قَوْمَ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ أَنْ يَبْعَثَ لَهُمْ آيَةً فَبَعَثَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُمُ النَّاقَةَ ، فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَتَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمَ وِرْدِهَا ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوا النَّاقَةَ ، فَقِيلَ لَهُمْ : ( تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ) ، أَوْ قِيلَ لَهُمْ : إِنَّ الْعَذَابَ يَأْتِيكُمْ إِلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ . ثُمَّ جَاءَتْهُمُ الصَّيْحَةُ فَأَهْلَكَ اللَّهُ مَنْ تَحْتَ مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ فَمَنَعَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُوَ ؟ قَالَ : " أَبُو رِغَالٍ " . قِيلَ : وَمَنْ أَبُو رِغَالٍ ؟ قَالَ : " جَدُّ ثَقِيفٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَيَأْتِي لَفْظُهُ فِي سُورَةِ هُودٍ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ نشانیوں کے بارے میں سوال نہ کرو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم لوگ اپنے نبی سے نشانیوں کا سوال نہ کرو کیونکہ سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم نے اپنے نبی سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے کوئی نشانی لے کر آئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے اونٹنی کو بھیجا وہ اس راستے سے آتی تھی اور اپنے آنے کے مخصوص دن ان لوگوں کا پانی پیتی تھی اور پھر اس راستے سے واپس چلی جاتی تھی ان لوگوں نے اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی اور اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیے تو ان سے یہ کہا: گیا کہ تم تین دن تک اپنے علاقے میں بچے رہو گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ان سے یہ کہا: گیا تین دن تک عذاب تمہارے پاس آ جائے گا پھر ایک زبردست آواز ان کے پاس آئی ، تو اللہ تعالیٰ نے زمین کے مشرقی حصوں اور مغربی حصوں میں موجود ان کے افراد کو ہلاکت کا شکار کر دیا صرف ایک شخص بچ گیا تھا جو حرم کی حدود میں موجود تھا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اسے لاحق نہیں ہوا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابورغال عرض کی گئی : ابورغال کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ثقیف قبیلے کا جد امجد “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ان کے الفاظ سورہ ہود سے متعلق باب میں آگے آئیں گے امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔