حدیث نمبر: 10325
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ : لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَرْضِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَى النَّاسَ : " الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ " قَالَ : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : ¤ " مَا يَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ؟ " فَنَادَاهُ رَجُلٌ : نَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ ؟ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ ، فَاسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا ، وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِشَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر لوگ حجر والوں کی سرزمین پر داخل ہونے میں جلدی کرنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے لوگوں میں یہ اعلان کروایا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا ، اور آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : تم ایک ایسی قوم پر داخل ہونا چاہتے ہو جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب ( نازل ) کیا تھا تو ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا یا رسول اللہ ہم ان پر حیران ہو رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے زیادہ حیران کن چیز کے بارے میں نہ بتاؤں تم لوگوں میں سے ایک شخص تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاتا ہے ، جو تم سے پہلے ہوئی تھی اور جو تمہارے بعد ہو گی تو تم لوگ سیدھے رہو ، اور درست رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کے حوالے سے کسی چیز کی پرواہ نہیں کرے گا اور عنقریب ایسے لوگ آ جائیں گے ، جو اپنے آپ سے کسی چیز کو پرے نہیں کر سکیں گے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10325
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (231/4)»