حدیث نمبر: 10317
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزَا غَزْوَةَ تَبُوكَ فَجَهِدَ الظَّهْرُ جَهْدًا شَدِيدًا ، فَشَكَوْا إِلَيْهِ ذَلِكَ ، قَالَ : وَرَآهُمْ رِجَالًا لَا يُرَوِّحُونَ ظَهْرَهُمْ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَضِيقٍ يَمُرُّ النَّاسُ فِيهِ ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ فَنَفَخَ فِيهَا نَفْخَةً ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ احْمِلْ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِكَ ، فَإِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ وَالرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ " . ¤ قَالَ : فَاسْتَمَرَّتْ فَمَا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ إِلَّا وَهِيَ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے گئے اس وقت سواریاں کم تھیں لوگوں نے اس بات کی شکایت آپ سے کی راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ملاحظہ فرمایا کہ ان کے پاس سواریاں نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تنگ جگہ کو دیکھا جہاں سے لوگ گزر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہر گئے لوگ وہاں سے گزرنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پھونک ماری اور پھر یہ دعا کی اے اللہ اپنی راہ میں ان لوگوں کو سواریاں فراہم کر کیونکہ تو ہی ہر طاقتور اور کمزور کو خشک اور تر کو خشکی اور سمندروں میں سواری فراہم کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو سواریاں چلنے لگیں اور مدینہ منورہ تک ہماری یہ حالت تھی کہ ہم سواریوں کو کھینچ کھینچ کے روکتے تھے ( اور وہ تیز رفتاری سے چل رہی ہوتی تھیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10317
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1840) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (300/18)»