مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ تَبُوكَ باب: غزوہ تبوک کا بیان
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ قَالَ : تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَرَأَيْتُ عَرِيشًا قَدْ رُشَّ بِالْمَاءِ ، وَرَأَيْتُ زَوْجَتِي فَقُلْتُ : مَا هَذَا بِالْإِنْصَافِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّمُومِ وَالْحَمِيمِ ، وَأَنَا فِي الظِّلِّ وَالنَّعِيمِ ، فَقُمْتُ إِلَى نَاضِحٍ فَاحْتَقَبْتُهُ ، وَإِلَى تَمَرَاتٍ فَتَزَوَّدْتُهَا ، فَنَادَتْ زَوْجَتِي إِلَيَّ : أَيْنَ يَا أَبَا خُثَيْمَةَ ؟ فَخَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ لَقِيَنِي عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّكَ رَجُلٌ جَرِيءٌ وَإِنِّي أَعْرِفُ ، جِئْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي امْرُؤٌ مُذْنِبٌ ، فَتَخَلَّفْ عَنِّي حَتَّى أَخْلُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ فَتَخَلَّفَ عَنِّي عُمَيْرٌ ، فَلَمَّا طَلَعْتُ عَلَى الْعَسْكَرِ فَرَآنِي النَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُنْ أَبَا خُثَيْمَةَ " فَجِئْتُ فَقُلْتُ : كِدْتُ أَهْلَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرًا وَدَعَا لِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گیا میں باغ میں داخل ہوا اور میں نے وہاں چھپر دیکھا جس پر پانی چھڑکا گیا تھا میں نے اپنی بیوی کو دیکھا تو میں نے کہا: یہ انصاف کی بات نہیں ہے اللہ کے رسول تو گرمی میں ہوں ، اور میں سائے ، اور نعمتوں میں ہوں پھر میں اٹھ کر اپنے اونٹ کی طرف بڑھا میں نے اس کو تیار کیا پھر میں پھلوں کی طرف گیا انہیں میں نے زاد راہ کے طور پر ساتھ لیا میری بیوی نے مجھ سے پوچھا: اے ابوخیثمہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوا راستے میں کسی جگہ پر عمیر کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، تو میں نے کہا: تم ایک جرات مند شخص ہو مجھے یہ بات پتہ ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں ، اور گناہگار شخص ہوں ، اور تم مجھ سے پیچھے رہ جاؤ گے ، یہاں تک کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ جاؤں گا ، تو عمیر نے مجھے چھوڑ دیا جب میں لشکر کے قریب پہنچا لوگوں نے مجھے دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ابوخیثمہ ہو جب میں آیا تو میں نے عرض کی : یا رسول الله ! قریب تھا کہ میں ہلاکت کا شکار ہو جاتا پھر میں نے آپ کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں بھلائی کے کلمات ارشاد فرمائے ، اور مجھے دعائیں دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔