حدیث نمبر: 10318
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا مَرَّ بِالْجُلَيْحَةِ فِي سَفَرِهِ إِلَى تَبُوكَ ، قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : الْمَبْرَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الظِّلُّ وَالْمَاءُ ، وَكَانَ فِيهَا دَوْمٌ وَمَاءٌ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا أَرْضُ زَرْعٍ وَتَبْرُدُ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ " - يَعْنِي نَاقَتَهُ - فَأَقْبَلَتْ حَتَّى بَرَكَتْ تَحْتَ الدَّوْمَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي مَسْجِدِ ذِي الْمَرْوَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تبوک کی طرف اپنے سفر کے دوران جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” جلیحہ “ کے مقام سے گزرے تو آپ کے ساتھیوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہاں ٹھہر جاتے ہیں یہاں سایہ بھی ہے ، اور پانی بھی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس جگہ پر بارش بھی تھا ، اور پانی بھی تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کھیتی باڑی کی اور ٹھنڈک کی جگہ ہے تم اسے رہنے دو ! کیونکہ یہ حکم کی پابند ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنی اونٹنی تھی وہ اونٹنی چلتی رہی ، یہاں تک کہ وہ مسجد ذی مروہ میں موجود ” دومتہ“ کے نیچے بیٹھ گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10318
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف