حدیث نمبر: 10315
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْقِصَارُ السُّودُ الْجِعَادُ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُولَئِكَ خُلَفَاءُ فِينَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : " سِرْ " بَدَلَ : " سَلْ " . وَقَالَ : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّوَادُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ ؟ " . قَالَ : فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ وَقَدْ تَخَلَّفُوا . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مَنَعَ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَالْأَنْصَارُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ . ¤ فِي إِسْنَادِهِمَا ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ان لوگوں کا کیا بنا جن کے قد چھوٹے ہیں رنگ سیاہ ہیں ، اور بال بکھرے ہوئے ہیں ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ ہم سے پیچھے رہ گئے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ لفظ ” تم کچھ مانگ لو “ کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے ” تم چلتے رہو “ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا کیا بنا جن کے رنگ سیاہ ہیں بال بکھرے ہوئے ہیں قد چھوٹے ہیں ، جن کے ” شبکہ شرخ “ میں جانور ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں نے بنو غفار میں ایسے لوگوں کو سوچنے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے یاد نہیں آئے ، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال آ گیا کہ یہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جو پیچھے رہ چکے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں سے کسی ایک کے لئے کیا رکاوٹ تھی کہ جب وہ پیچھے رہ گیا تھا تو وہ اپنا اونٹ کسی ایسے شخص کو سواری کے لئے دے دیتا جو اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے کے لئے تازہ دم ہو میرے اہلخانہ میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ گراں یہ بات ہے کہ مہاجرین جن کا تعلق قریش سے ہے وہ یا انصار یا اسلم یا غفار سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے پیچھے رہ جائے ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی سیدنا ابورہم رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10315
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (183/19) اخرجه احمد فى المسند (19096)»