مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ تَبُوكَ باب: غزوہ تبوک کا بیان
وَعَنْ أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ - قَالَ : ¤ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبُوكَ ، فَلَمَّا فَصَلَ سَرَى لَيْلَةً فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ ، وَأُلْقِيَ عَلَيَّ النُّعَاسُ فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا ; خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَأُؤَخِّرَ رَاحِلَتِي حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي نِصْفَ اللَّيْلِ ، فَرَكِبَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَتَهُ ، وَرِجْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْغَرْزِ فَأَصَابَتْ رِجْلَهُ ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ : " حِسَّ " . فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَقُلْتُ : اسْتَغْفِرْ لِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " سَلْ " . فَطَفِقَ يَسْأَلُنِي عَنْ بَنِي غِفَارٍ فَأُخْبِرُهُ ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُنِي : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الطِّوَالُ الثِّطَاطُ أَوِ الْقِصَارُ - عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَشُكُّ - الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَظِيَّةِ شَرْخٍ ؟ " . فَذَكَرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَمْنَعُ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّيَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ . ¤ابورہم غفاری رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے درخت کے نیچے آپ کی بیعت کی تھی وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے ذرا ہٹ گئے ، اور آپ رات بھر چلتے رہے میں بھی آپ کے قریب چلتا رہا پھر مجھے اونگھ آنے لگی پھر میری آنکھ کھل جاتی تھی میں نے دیکھا کہ میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے قریب ہو گئی ہے آپ کے زیادہ قریب ہونے نے مجھے پریشان کر دیا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں رکاب میں موجود آپ کے پاؤں کو تکلیف نہ پہنچا دوں تو میں نے اپنی سواری کو پیچھے کر لیا ، یہاں تک کہ نصف رات کے وقت میری آنکھ لگ گئی پھر میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے قریب ہونے لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں رکاب میں تھا آپ کے پاؤں کو تکلیف پہنچی تو میں آپ کے ان الفاظ پر بیدار ہوا : ارے ، میں نے سر اٹھایا پھر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کچھ پوچھو ( یا تم کچھ مانگو ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بنوغفار کے بارے میں دریافت کرنا شروع کیا میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا پھر آپ نے مجھ سے دریافت کیا : ان لوگوں کا کیا حال ہے ، جو سرخ رنگ کے مالک ، طویل قد والے ہیں ، ان کے بال چھوٹے ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تھوڑے بالوں والے ہیں ، یہ شک عبدالرزاق نامی راوی کو ہے ، وہ لوگ جن کے ” شظیہ شرخ “ میں جانور ہیں ، میں نے بنوغفار کے بارے میں ان کا ذکر کیا لیکن مجھے یاد نہیں آ سکا ، یہاں تک کہ مجھے اسلم قبیلے کے لوگوں کا خیال آیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( یہاں شاید کچھ الفاظ نقل ہونے سے رہ گئے ہیں ، نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ) ان میں سے کوئی ایک شخص جب پیچھے رہ جاتا ہے ، تو اس کے لئے کیا رکاوٹ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والے کسی شخص کو اپنا اونٹ سواری کے لئے دیدے اور میرے گھر والوں میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ گراں یہ بات ہے کہ مہاجرین مجھ سے پیچھے رہ جائیں ، جن کا تعلق قریش سے ہے یا انصار یا اسلم قبیلے کے لوگ یا غفار قبیلے کے لوگ پیچھے رہ جائیں ۔