حدیث نمبر: 10313
وَعَنْ أَبِي رُهْمٍ قَالَ : كُنَّا فِي مَسِيرٍ وَإِلَى جَنْبِي رَجُلٌ أَزْحَمُهُ بِاللَّيْلِ وَلَا أَعْرِفُهُ ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قُلْتُ : أَبُو رُهْمٍ ، قَالَ : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ الطِّوَالُ الْجِعَادُ الْأُدْمُ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ؟ هَلْ مَعَنَا مِنْهُمْ فِي الْمَسِيرِ أَحَدٌ ؟ " قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَمَا فَعَلَ النَّفَرُ الْأُدْمُ الْقِصَارُ الْخُنَّسُ مِنْ أَسْلَمَ ؟ هَلْ مَعَنَا مِنْهُمْ فِي الْمَسِيرِ أَحَدٌ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَمَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الثِّطَاطُ ؟ هَلْ مَعَنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي الْمَسِيرِ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " مَا مِنْ أَهْلِي أَحَدٌ أَعَزُّ عَلَيَّ مُخَلَّفًا مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ وَأَسْلَمَ وَغِفَارٍ ، فَمَا يَمْنَعُ أَحَدَهُمْ إِذَا تَخَلَّفَ أَنْ يَفْقِرَ الْبَعِيرَ مِنْ إِبِلِهِ ، فَيَكُونَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْخَارِجِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِيهِ ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورہم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سفر کر رہے تھے میرے پہلو میں کوئی صاحب تھے جو رات کے وقت میرے پاس آ جاتے تھے میں انہیں پہچانتا نہیں تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے آپ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : ابورہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان افراد کا کیا بنا جو طویل قد کے گھنگھریالے بالوں والے گندمی رنگت والے ہیں ، جن کا تعلق بنو غفار سے ہے کیا اس چلنے کے دوران ان میں سے کوئی ایک ہمارے ساتھ ہے میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا کیا بنا جو گندمی رنگت والے چھوٹے قد کے بیٹھے ہوئے ناک والے ہیں ، جن کا تعلق اسلم قبیلے سے ہے کیا ان میں سے کوئی ہمارے ساتھ چل رہا ہے میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کا کیا بنا جو سرخ رنگ کے مالک ہیں ، اور جن کی داڑھی ہلکی ہوتی ہے کیا ان میں سے کوئی ایک شخص ہمارے ساتھ چل رہا ہے میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے اہلخانہ میں سے کسی کا مجھ سے پیچھے رہ جانا اتنا زیادہ گراں نہیں ہے جتنا گراں قریش یا انصار یا اسلم یا غفار قبیلے کے لوگوں میں سے کسی کا پیچھے رہ جانا ( مجھ پر گراں گزرتا ہے ) جب ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ گیا ہو ، تو اس کے لئے اس کام میں کیا رکاوٹ ہے کہ وہ اپنے اونٹوں میں سے کوئی اونٹ عارضی استعمال کے لئے کسی کو دیدے تو اسے جانے والے شخص کی مانند اجر مل جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیدنا ابورہم رضی اللہ عنہ کا بھتیجا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں دونوں اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10313
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف