حدیث نمبر: 10312
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ [ وَكُنْتُ ] عَلَى خِدْمَتِهِ ذَلِكَ السَّفَرَ ، فَنَظَرْتُ إِلَى نِحْيِ السَّمْنِ قَدْ قَلَّ مَا فِيهِ ، وَهَيَّأْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا فَوَضَعْتُ السَّمْنَ فِي الشَّمْسِ وَنِمْتُ ، فَانْتَبَهْتُ بِخَرِيرِ النِّحْيِ ، فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ بِيَدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَآنِي : " لَوْ تَرَكْتَهُ لَسَالَ وَادِيًا سَمْنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ إِحْدَاهُمَا فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ ، وَرِجَالُهُمَا وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے اس سفر کے دوران میں آپ کی خدمت پر مامور تھا میں نے گھی کے برتن میں دیکھا کہ اس میں گھی کم ہو چکا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا پھر میں نے گھی کو دھوپ میں رکھ دیا ، اور میں سو گیا میں اس وقت بیدار ہوا جب اس برتن میں سے آواز آئی تو میں اٹھا میں نے اس کا سرا اپنے ہاتھ سے پکڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملاحظہ فرما رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو پوری وادی میں گھی بہہ رہا ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک سند کے ساتھ یہ علامات نبوت سے متعلق باب میں آگے آئے گی اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10312
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2992)»