مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ تَبُوكَ باب: غزوہ تبوک کا بیان
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : ¤ أَنَّهُ شَهِدَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَيَّامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالصَّدَقَةِ وَالْقُوَّةِ وَالتَّأَسِّي وَكَانَتْ نَصَارَى الْعَرَبِ كَتَبَتْ إِلَى هِرَقْلَ : إِنَّ هَذَا الَّذِي خَرَجَ يَنْتَحِلُ النُّبُوَّةَ قَدْ هَلَكَ وَأَصَابَتْهُ سِنُونُ فَهَلَكَتْ أَمْوَالُهُمْ ، فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَلْحَقَ دِينَكَ فَالْآنَ ، فَبَعَثَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يُقَالُ لَهُ : الضِّنَادُ ، وَجَهَّزَ مَعَهُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتَبَ فِي الْعَرَبِ ، وَكَانَ يَجْلِسُ كُلَّ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ فَيَدْعُو وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ " فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ قُوَّةٌ . ¤ وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ جَهَّزَ عِيرًا إِلَى الشَّامِ يُرِيدُ أَنْ يَمْتَارَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَقْتَابِهَا وَأَحْلَاسِهَا وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَبَّرَ النَّاسُ [ ثُمَّ قَامَ مَقَامًا آخَرَ ،وَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ ، فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ،وَهَاتَا مِائَتَانِ وَمَائَتَا أُوقِيَّةٍ ، ،فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ ] وَأَتَى عُثْمَانُ بِالْإِبِلِ وَأَتَى بِالصَّدَقَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَا يَضُرُّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر جسے جیش عسرت کہا: جاتا ہے وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کی قوت فراہم کرنے اور ساتھ دینے کا حکم دیا کیونکہ عربوں کے عیسائیوں نے ہرقل کو خط لکھا تھا کہ یہ صاحب جو نکلے ہیں ، جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ، اور انہیں قحط سالی لاحق ہو گئی ہے ، جس کی وجہ سے ان کے اموال ہلاک ہو گئے ہیں ، تو اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے دین کو بچا لو تو اب یہ موقع ہے ، تو ہرقل نے اپنے بڑے سرداروں میں سے ایک سردار کو بھیجا جس کا نام ضنا تھا اس نے اس سردار کے ساتھ چالیس ہزار افراد بھی بھیجے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے عربوں کے مختلف علاقوں میں مکتوب بھجوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ منبر پر تشریف فرما ہوتے تھے اور یہ دعا کرتے تھے اے اللہ اگر ( مسلمانوں کے ) اس گروہ کو تو نے ہلاکت کا شکار کر دیا ، تو زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی اس وقت لوگوں کے پاس قوت نہیں تھی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف ایک قافلہ بھیجا ہوا تھا وہ یہ چاہتے تھے کہ اس کے ذریعے اناج حاصل کریں گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ دو سو اونٹ ہیں یہ اپنے پالانوں اور کپڑوں سمیت ( میں نذر کرتا ہوں ) اور اس کے ساتھ دو سو اوقیہ ( چاندی ) ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور لوگوں نے تکبیر کہی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کھڑے ہوئے آپ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ دو سو ( اونٹ ہیں ) اور دو سو اوقیہ ( چاندی ) ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کی لوگوں نے بھی نعرہ تکبیر لگایا پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اونٹ لے کر آئے ، اور صدقہ ( کی رقم ) لے کر آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ” عثمان کو کوئی نقصان نہیں ہو گا اگر وہ آج کے بعد کوئی عمل نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔