مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
حدیث نمبر: 10263
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُمْ يَوْمَ الْفَتْحِ : " إِنَّ هَذَا الْعَامَ الْحَجُّ الْأَكْبَرُ ، قَدِ اجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ ، وَحَجُّ الْمُشْرِكِينَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، وَاجْتَمَعَ حَجُّ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، وَلَمْ يَجْتَمِعْ مُنْذُ خُلِقَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، وَلَا يَجْتَمِعُ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : ” یہ سال حج اکبر کا ہے اس میں مسلمانوں کے حاجی اور مشرکین کے حاجی مسلسل تین دن تک اکٹھے رہے اس میں یہودیوں کا حج اور عیسائیوں کا حج مسلسل چھ دن تک اکٹھا ہوا جب سے آسمان اور زمین پیدا ہوئے ہیں اس وقت سے لے کر ( اب تک ) یہ کبھی اکٹھی نہیں ہوئے ، اور اس سال کے بعد بھی قیامت تک یہ کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔