حدیث نمبر: 10262
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " كُفُّوا السِّلَاحَ إِلَّا خُزَاعَةَ عَنْ بَنِي بَكْرٍ " ، فَأَذِنَ لَهُمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ قَالَ : " كُفُّوا السِّلَاحَ " ، فَلَقِيَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ رَجُلًا مِنْ بَنِي بَكْرٍ مِنْ غَدٍ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَتَلَهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ ، وَرَأَيْتُهُ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ : " إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ فِي الْحَرَمِ ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاهِلِيَّةِ " ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنْ فُلَانًا ابْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا دَعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ ، ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْأَثْلَبُ " . قَالُوا : وَمَا الْأَثْلَبُ ؟ قَالَ : " الْحَجَرُ " . ¤ قَالَ : وَقَالَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " . قَالَ : " وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ النَّهْيُ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ ، وَفِي السُّنَنِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مکہ فتح ہو گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ہتھیاروں کو روک لو البتہ بنوبکر کے حوالے سے خزاعہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اجازت دے دی ، یہاں تک کہ جب آپ نے عصر کی نماز ادا کی تو پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ہتھیاروں کو روک لو اس دوران خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بنو بکر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے مزدلفہ میں ملا اس نے اسے قتل کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگائی ہوئی تھی آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے زیادہ سرکشی کرنے والا شخص وہ ہے ، جو حرم میں کسی کو قتل کرتا ہے یا اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرتا ہے یا زمانہ جاہلیت کی دشمنی کی بنیاد پر کسی کو قتل کرتا ہے ، تو ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہوا اس نے عرض کی : فلاں شخص میرا بیٹا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام میں ایسے کسی دعوی کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی زمانہ جاہلیت کے معاملات ختم ہو چکے ہیں بچہ فراش والے کو ملے گا اور زنا کرنے والے کو اثلب ملے گا لوگوں نے دریافت کیا : اثلب سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : پتھر ( یا محرومی ) راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ، اور عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا : عورت کے ساتھ اُس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح“ میں اس روایت میں سے صبح کی نماز کے بعد نماز کی ممانعت والا حصہ مذکور ہے سنن میں بھی اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10262
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6681)»