حدیث نمبر: 10254
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى الْكَعْبَةِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا ، وَقَدْ شَدَّ لَهُمْ إِبْلِيسُ أَقْدَامَهُمْ بِالرَّصَاصِ ، فَجَاءَ وَمَعَهُ قَضِيبُهُ فَجَعَلَ يَهْوِي بِهِ إِلَى كُلِّ صَنَمٍ مِنْهَا فَيَخِرُّ لِوَجْهِهِ ، وَيَقُولُ : " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا " . حَتَّى مَرَّ عَلَيْهَا كُلِّهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے خانہ کعبہ میں اس وقت تین سو ساٹھ بت تھے ابلیس نے ان کے پاؤں سیسے کے ذریعے مضبوط کروائے ہوئے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ کے پاس ایک چھڑی تھی آپ اس کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے تھے ، تو وہ منہ کے بل گر جاتا تھا آپ یہ پڑھ رہے تھے : ” حق آ گیا اور باطل چلا گیا بے شک باطل نے جانا ہی تھا “ ۔ یہاں تک کہ آپ ان میں سے ہر ایک بت کے پاس سے گزرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10254
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1825) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10666)»