مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى الْكَعْبَةِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا ، وَقَدْ شَدَّ لَهُمْ إِبْلِيسُ أَقْدَامَهُمْ بِالرَّصَاصِ ، فَجَاءَ وَمَعَهُ قَضِيبُهُ فَجَعَلَ يَهْوِي بِهِ إِلَى كُلِّ صَنَمٍ مِنْهَا فَيَخِرُّ لِوَجْهِهِ ، وَيَقُولُ : " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا " . حَتَّى مَرَّ عَلَيْهَا كُلِّهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے خانہ کعبہ میں اس وقت تین سو ساٹھ بت تھے ابلیس نے ان کے پاؤں سیسے کے ذریعے مضبوط کروائے ہوئے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ کے پاس ایک چھڑی تھی آپ اس کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے تھے ، تو وہ منہ کے بل گر جاتا تھا آپ یہ پڑھ رہے تھے : ” حق آ گیا اور باطل چلا گیا بے شک باطل نے جانا ہی تھا “ ۔ یہاں تک کہ آپ ان میں سے ہر ایک بت کے پاس سے گزرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔