مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى نَخْلَةٍ ، وَكَانَتْ بِهَا الْعُزَّى ، فَأَتَاهَا خَالِدٌ وَكَانَتْ عَلَى ثَلَاثِ سَمُرَاتٍ ، فَقَطَعَ السَّمُرَاتِ ، وَهَدَمَ الْبَيْتَ الَّذِي كَانَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا " .
فَرَجَعَ خَالِدٌ فَلَمَّا نَظَرَتْ إِلَيْهِ السَّدَنَةُ وَهُمْ حَجَبَتُهَا أَمْعَنُوا فِي الْجِبَلِ ، يَقُولُونَ : يَا عُزَّى خَبِّلِيهِ ، يَا عُزَّى عَوِّرِيهِ ، فَأَتَاهُ خَالِدٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ عُرْيَانَةٌ نَاشِرَةٌ شَعْرَهَا تَحْثُو التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهَا ، فَغَمَّمَهَا بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " تِلْكَ الْعُزَّى " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا ، تو آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو نخلہ کی طرف بھیجا جہاں عزی نامی بت تھا سیدنا خالد رضی اللہ عنہ وہاں آئے وہ بت کیکر کے تین درختوں پر تھا ، تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان درختوں کو کٹوا دیا ، اور اس گھر کو منہدم کروا دیا جو اس پر موجود تھا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم واپس جاؤ کیونکہ تم نے کچھ نہیں کیا ( یعنی پورا کام نہیں کیا ) سیدنا خالد رضی اللہ عنہ واپس گئے جب وہاں کے محافظین نے انہیں دیکھا تو وہ بھاگ کر پہاڑ میں دور چلے گئے وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے اسے عزی ! اسے جنون لاحق کر دے ، اسے عزی ! اسے کانا کر دے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ وہاں آئے ، تو وہاں ایک برہنہ عورت موجود تھی جس نے بال بکھرائے ہوئے تھے وہ اپنے سر پر مٹی ڈال رہی تھی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس پر تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ عزی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن منذر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔