حدیث نمبر: 10253
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ وَجَدَ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَسِتِّينَ صَنَمًا ، فَأَشَارَ بِعَصَاهُ إِلَى كُلِّ صَنَمٍ مِنْهَا ، وَقَالَ : " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا " . فَيَسْقُطُ الصَّنَمُ وَلَمْ يَمَسَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخَالِفُ وَيُخْطِئُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے ، تو آپ نے وہاں تین سو ساٹھ بت پائے آپ اپنے عصا کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے تھے اور یہ پڑھتے تھے ” حق آ گیا اور باطل رخصت ہو گیا بے شک باطل نے رخصت ہی ہونا تھا “ تو وہ بت گر جاتا تھا آپ اس بت کو چھوتے نہیں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر عمری ہے ، اور وہ متروک ہے ابن اسحاق نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں یہ ( دوسرے راویوں کے ) بر خلاف بھی نقل کرتا ہے ، اور غلطی بھی کرتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10253
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13643)»