مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : وَفَرَّ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهِلٍ عَامِدًا إِلَى الْيَمَنِ ، وَأَقْبَلَتْ أُمُّ الْحَكَمِ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مُسْلِمَةٌ ، وَهِيَ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي طَلَبِ زَوْجِهَا ، فَأَذِنَ لَهَا وَأَمَّنَهُ .
فَخَرَجَتْ بِعَبْدٍ لَهَا رُومِيٍّ فَرَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا ، فَلَمْ تَزَلْ تُمَنِّيهِ وَتُقَرِّبُ لَهُ حَتَّى أَدْلَتْ عَلَى أُنَاسٍ مِنْ عَكٍّ فَاسْتَعَانَتْهُمْ عَلَيْهِ فَأَوْثَقُوهُ ، فَأَدْرَكَتْ زَوْجَهَا بِبَعْضِ تِهَامَةَ ، وَقَدْ كَانَ رَكِبَ سَفِينَةً فَلَمَّا جَلَسَ فِيهَا نَادَى بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ : لَا يَجُوزُ أَنْ تَدْعُوَ هَا هُنَا أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَحْدَهُ مُخْلِصًا . فَقَالَ عِكْرِمَةُ : وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ فِي الْبَحْرِ إِنَّهُ لَفِي الْبَرِّ وَحْدَهُ ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَى مُحَمَّدٍ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
فَرَجَعَ عِكْرِمَةُ مَعَ امْرَأَتِهِ فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ ، وَقَبِلَ مِنْهُ . وَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ حِينَ هَزَمَتْ بَنُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَتِهِ فَارًّا ، فَلَامَتْهُ وَعَجَّزَتْهُ وَعَيَّرَتْهُ بِالْفِرَارِ ، فَقَالَ :
وَأَنْتِ لَوْ رَأَيْتِنَا بِالْخَنْدَمَهْ إِذْ فَرَّ صَفْوَانُ وَفَرَّ عِكْرِمَهْ وَلَحِقَتْنَا بِالسُّيُوفِ الْمُسْلِمَهْ
يَقْطَعْنَ كُلَّ سَاعِدٍ وَجُمْجُمَهْ لَمْ تَنْطِقِي فِي اللَّوْمِ أَدْنَى كَلِمَهْ
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ .
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : عکرمہ بن ابوجہل فرار ہو کر یمن کی طرف روانہ ہوئے اُم حکیم بنت حارث بن ہشام جو اس وقت مسلمان ہو چکی تھیں اور عکرمہ بن ابوجہل کی اہلیہ تھیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنے شوہر کو تلاش کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور عکرمہ کے لئے امان بھی دے دی وہ خاتون اپنے رومی غلام کو ساتھ لے کر وہاں سے روانہ ہوئیں ، اس غلام کی نیت میں فتور آ گیا وہ خاتون اس کو بہلاتی پھسلاتی رہیں ، یہاں تک کہ جب وہ ” عک “ کے مقام پر پہنچیں تو اس خاتون نے اس غلام کے خلاف ان لوگوں سے مدد مانگی ، تو ان لوگوں نے اسے باندھ دیا ، تہامہ میں کسی جگہ پر وہ خاتون اپنے شوہر کے پاس پہنچ گئیں جن کی یہ حالت تھی کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تھے جب وہ اس کشتی میں بیٹھے تو انہوں نے لات اور عزی کو پکارا تو کشتی والوں نے کہا: کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو پکارنا درست نہیں ہے اخلاص کے ساتھ صرف اسی کو پکارا جا سکتا ہے تو عکرمہ نے کہا: اللہ کی قسم اگر وہ سمندر میں کام آتا ہے ، تو خشکی میں بھی صرف وہی کام آ سکتا ہے میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ میں واپس سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس چلا جاؤں گا ، تو عکرمہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس آ گئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیعت کو قبول کر لیا ۔ جب بنوبکر کو شکست ہوئی تو ہذیل قبیلے کا ایک شخص فرار ہو کر اپنی بیوی کے پاس آیا تو اس خاتون نے اسے ملامت کی اسے عاجز قرار دیا ، اور اسے فرار کے حوالے سے عار دلائی تو اس نے یہ اشعار کہے : ” اگر تم نے ہمیں خندمہ میں دیکھا ہوتا جب صفوان بھی فرار ہو گیا اور عکرمہ بھی ، اور سونتی ہوئی تلواروں نے ہمیں آ لیا ، جو ہر کلائی اور سر کو کاٹ رہی تھیں ، تو تم ملامت میں ایک چھوٹی سی بات بھی نہ کہتیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔