حدیث نمبر: 10246
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : أَخَذْتُ بِيَدِ أَبِي سُفْيَانَ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ السَّمَاعَ فَأَعْطِهِ شَيْئًا ، فَقَالَ : " مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ " . ¤ ثُمَّ قَامَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَأَقْعَدْتُهُ عَلَى الطَّرِيقِ فَجَعَلَ يَمُرُّ بِهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَوْكَبَةً كَوْكَبَةً يَقُولُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَأَقُولُ : هَؤُلَاءِ مُزَيْنَةُ ، فَيَقُولُ : مَا لِي وَلِمُزَيْنَةَ ، مَا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ حَرْبٌ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ، ثُمَّ تَمُرُّ الْكَوْكَبَةُ فَيَقُولُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَأَقُولُ : هَؤُلَاءِ جُهَيْنَةُ ، حَتَّى مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُهَاجِرِينَ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِمْ مُقْبِلِينَ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ : لَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَخِيكَ مُلْكًا عَظِيمًا . قَالَ : وَذَكَرَ كَلَامًا كَثِيرًا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابوسفیان کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوسفیان ایک ایسا شخص ہے ، جو شہرت کو پسند کرتا ہے ، تو آپ اسے کوئی چیز دے دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون ہو گا ، جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا وہ مامون ہو گا “ ۔ پھر وہ کھڑا ہوا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے راستے میں بٹھا لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب دستوں کی شکل میں وہاں سے گزرنے لگے وہ دریافت کرتا تھا یہ کون لوگ ہیں ، تو میں یہ کہتا تھا یہ مزینہ قبیلے کے لوگ ہیں ، تو وہ یہ کہتا تھا میرا مزینہ کے ساتھ کیا واسطہ میری ان کے ساتھ نہ زمانہ جاہلیت میں کوئی جنگ تھی اور نہ زمانہ اسلام میں کوئی جنگ ہے پھر ایک اور دستہ گزرا ، تو اس نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں میں نے کہا: یہ جہینہ قبیلے کے لوگ ہیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کے درمیان گزرے جب اس نے ان لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ رہے ہیں ، تو اس نے کہا: تمہارے بھتیجے کو بڑی بادشاہی دے دی گئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد اس نے بہت سا کلام ذکر کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہاشمی ہے ، اور وہ متروک ہے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10246
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1820)»