مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُودُهُ - شَيْخٌ أَعْمَى - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى نَأْتِيَهُ ؟ " قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ يُؤْجِرَهُ اللَّهُ . ¤ لَأَنَا كُنْتُ بِإِسْلَامِ أَبِي طَالِبٍ أَشَدَّ فَرَحًا مِنِّي بِإِسْلَامِ أَبِي ، أَلْتَمِسُ بِذَلِكَ قُرَّةَ عَيْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ انہیں ساتھ لے کر چلتے ہوئے آئے تھے کیونکہ وہ ایک بوڑھے نابینا شخص تھے یہ فتح مکہ کے دن کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے ان بزرگوار کو گھر میں کیوں نہیں رہنے دیا تاکہ ہم ان کے پاس چلے جاتے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے یہ ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اجر عطا کرے میری یہ حالت تھی کہ جناب ابوطالب کا اسلام قبول کرنا میرے نزدیک میرے والد کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ خوشی کا باعث تھا ، اور رسول اللہ میرا مقصد اس کے ذریعے یہ تھا تاکہ اس کے ذریعے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔