حدیث نمبر: 10228
وَعَنْ ذِي الْجَوْشَنِ الضَّبَابِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ [ لِي ] يُقَالُ لَهَا : الْقَرْحَاءُ ، فَقُلْتُ : يَا مُحَمَّدُ ، قَدْ جِئْتُكَ بِابْنِ الْقَرْحَاءِ لِتَتَّخِذَهُ ، قَالَ : " لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ، وَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ أَقِيضُكَ بِهَا الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ " . ¤ قَالَ : مَا كُنْتُ لِأَقِيضَهُ الْيَوْمَ بِغُرَّةٍ ، قَالَ : " لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ " ثُمَّ قَالَ : " يَا ذَا الْجَوْشَنِ أَلَا تُسْلِمُ فَتَكُونَ مِنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ ؟ " فَقُلْتُ : لَا ، قَالَ : " لِمَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : رَأَيْتُ قَوْمَكَ قَدْ وَلِعُوا بِكَ ، قَالَ : " كَيْفَ بَلَغَكَ عَنْ مَصَارِعِهِمْ بِبَدْرٍ ؟ " ، قُلْتُ : قَدْ بَلَغَنِي ، قَالَ : " فَأَنَّا نَهْدِي لَكَ " ، قُلْتُ : إِنْ تَغْلِبْ عَلَى الْكَعْبَةِ وَتَقْطُنْهَا ، قَالَ : " لَعَلَّكَ إِنْ عِشْتَ تَرَى ذَلِكَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَا فُلَانُ ، خُذْ حَقِيبَةَ الرَّجُلِ فَزَوِّدْهُ مِنَ الْعَجْوَةِ " فَلَمَّا أَدْبَرْتُ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ فُرْسَانِ بَنِي عَامِرٍ " قَالَ : فَوَاللَّهِ إِنِّي بِأَهْلِي بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاكِبٌ ، فَقُلْتُ : مَا فَعَلَ النَّاسُ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ قَدْ غَلَبَ مُحَمَّدٌ عَلَى الْكَعْبَةِ وَقَطَنَهَا ، قُلْتُ : هَبِلَتْنِي أُمِّي ، وَلَوْ أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْأَلُهُ الْحِيرَةَ لَأَقْطَعَنِيهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ذوالجوشن ضبابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بدر سے فارغ ہونے کے بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے گھوڑے کے بچے کو لے کے آیا جس کا نام قرحہ تھا میں نے کہا: اے محمد ! میں آپ کے پاس قرحہ کے بچے کو لے کے آیا ہوں تاکہ آپ اسے لے لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں اس کی جگہ بدر کی زرہوں میں سے کوئی منتخب زرہ ادا کر دیتا ہوں ، اس نے کہا: میں آج کوئی چیز جرمانے کے طور پر نہیں لوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ذوالجوشن تم اسلام کیوں نہیں قبول نہیں کر لیتے ہیں ؟ تاکہ تم اس معاملے کے آغاز میں شریک ہونے والے بن جاؤ میں نے کہا: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں میں نے کہا: میں نے آپ کی قوم کو دیکھا ہے کہ وہ آپ سے اختلاف کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بدر میں ان کا جو حال ہوا ہے اس کے بارے میں تمہیں پتہ نہیں چلا میں نے کہا: مجھے اس کے بارے میں پتہ چلا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم تمہیں ہدایت دیں گے میں نے کہا: اگر آپ خانہ کعبہ پر غالب آ گئے اور آپ نے اس کو اپنا وطن بنا لیا ( یا اس جگہ پر آپ کو تسلط حاصل ہو گیا ) ، تو ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم زندہ رہے ، تو تم یہ چیز بھی دیکھ لو گے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے فلاں تم اس شخص کی تھیلی پکڑو اور اس میں عجوہ کھجوریں زاد راہ کے طور پر ڈال دو جب میں واپس آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ بنو عامر کے شہسواروں میں بہتر افراد میں سے ایک ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم میں غور نامی جگہ پر اپنے گھر والوں میں موجود رہا اسی دوران ایک سوار آیا میں نے دریافت کیا : لوگوں کا کیا معاملہ ہے ۔ انہوں نے بتایا : اللہ کی قسم سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کعبہ پر غالب آ گئے ہیں اور وہاں ان کا تسلط قائم ہو گیا ہے ، تو میں نے کہا: میری ماں مجھے کھو دے اگر میں نے اس وقت اسلام قبول کر لیا ہوتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ” خیرہ “ نامی جگہ مانگتا تو آپ نے مجھے وہ بھی جاگیر کے طور پر عطا کر دینی تھی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10228
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (67/4)»