مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ : فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يَمْنَعُكَ مِنْ ذَلِكَ ؟ " قَالَ : رَأَيْتُ قَوْمَكَ قَدْ كَذَّبُوكَ وَأَخْرَجُوكَ وَقَاتَلُوكَ ، فَأَنْظُرُ مَاذَا تَصْنَعُ ، فَإِنْ ظَهَرْتَ عَلَيْهِمْ آمَنْتُ بِكَ وَاتَّبَعْتُكَ ، وَإِنْ ظَهَرُوا عَلَيْكَ لَمْ أَتَّبِعْكَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَأَبُوهُ ، وَلَمْ يَسُقِ الْمَتْنَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہیں اس بات سے کیا چیز روکتی ہے ، تو انہوں نے جواب دیا میں نے آپ کی قوم کو دیکھا ہے کہ انہوں نے آپ کو جھٹلایا انہوں نے آپ کو نکلنے پر مجبور کیا ۔ انہوں نے آپ کے ساتھ لڑائی کی تو میں یہ دیکھتا ہوں کہ ابھی آپ کا کیا بنتا ہے اگر آپ ان پر غالب آ گئے ، تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا اور آپ کی پیروی کر لوں گا اور اگر وہ لوگ آپ پر غالب آ گئے ، تو میں آپ کی پیروی نہیں کروں گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور ان کے والد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے متن کا سیاق نقل نہیں کیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔