مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضِبَ فِيمَا كَانَ مِنْ شَأْنِ بَنِي كَعْبٍ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَهُ مُنْذُ زَمَانٍ ، وَقَالَ : " لَا نَصَرَنِي اللَّهُ إِنْ لَمْ أَنْصُرْ بَنِي كَعْبٍ " . قَالَتْ : وَقَالَ لِي : " قُولِي لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَتَجَهَّزَا لِهَذَا الْغَزْوِ " . ¤ قَالَ : فَجَاءَا إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا : أَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : فَقَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِيمَا كَانَ مِنْ شَأْنِ بَنِي كَعْبٍ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَهُ مُنْذُ زَمَانٍ مِنَ الدَّهْرِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ حِزَامِ بْنِ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْهَا ، وَقَدْ وَثَّقَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بنو کعب کے معاملے میں غصے میں آ گئے ، اور اتنے شدید غصے میں آئے کہ میں نے ایک طویل عرصے سے کبھی آپ کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ میری مدد نہ کرے اگر میں بنو کعب کی مدد نہیں کرتا“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوبکر اور عمر سے کہہ دو کہ وہ اس جنگ کے لئے تیاری کر لیں راوی بیان کرتے ہیں : یہ دونوں صاحبان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، اور بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو کعب کے معاملے میں اتنے غصے میں دیکھا ہے کہ میں نے ایک طویل عرصے سے آپ کو کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حرام بن ہشام بن حبیش کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ابن حبان نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔