مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ باب: غزوہ مؤتہ کا بیان
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، فَقَالَ : بَعَثْتَنِي فِي كَذَا وَكَذَا ، فَأَتَيْتُ مُؤْتَةَ فَلَمَّا صُفَّ الْقَوْمُ وَرَكِبَ جَعْفَرٌ فَرَسَهُ ، وَلَبِسَ دِرْعَهُ ، وَأَخَذَ اللِّوَاءَ فَمَشَى حَتَّى أَتَى الْقَوْمَ ثُمَّ نَادَى : مَنْ يُبَلِّغُ هَذِهِ صَاحِبَهَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا ، فَبَعَثَ بِهَا ثُمَّ تَقَدَّمَ فَضَرَبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى قُتِلَ ، فَتَحَدَّرَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دُمُوعًا ، فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُكَلِّمْنَا ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يُكَلِّمْنَا ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ يَدْخُلُ وَلَا يُكَلِّمُنَا . ¤ وَكَانَ إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا فِي الْفَجْرِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي كَانَ يَخْرُجُ فِيهَا ، وَأَنَا وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ جُلُوسٌ ، فَجَلَسَ بَيْنَنَا فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ رُؤْيَا رَأَيْتُهَا ، دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ جَعْفَرًا ذَا جَنَاحَيْنِ مُضَرَّجَيْنِ بِالدِّمَاءِ ، وَزَيْدٌ مُقَابِلَهُ ، وَابْنُ رَوَاحَةَ مَعَهُمْ كَأَنَّهُ يُعْرِضُ عَنْهُمْ ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، إِنَّ جَعْفَرًا حِينَ تَقَدَّمَ فَرَأَى الْقَتْلَ لَمْ يَصْرِفْ وَجْهَهُ ، وَزَيْدٌ كَذَلِكَ ، وَابْنُ رَوَاحَةَ صَرَفَ وَجْهَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو حَمْزَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ابوعامر اشعری آپ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : آپ نے مجھے فلاں فلاں کام کے سلسلے میں بھیجا ہوا تھا میں موتہ آ گیا وہاں لوگ صف آراء تھے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے انہوں نے اپنی زرہ پہنی اور جھنڈا لے لیا اور چلتے ہوئے دشمن کے پاس آئے ، اور بولے : کون اسے اس کے متعلقہ فرد تک پہنچائے گا ، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : میں انہوں نے اس کے ہمراہ اسے بھیج وہ آگے بڑھا اس نے تلوار سے ضرب لگائی ، یہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی پھر اندر تشریف لے گئے آپ نے ہمارے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی آپ تشریف لائے آپ نے عصر کی نماز پڑھائی آپ نے ہمارے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی مغرب اور عشاء کی نمازوں میں بھی آپ نے اسی طرح کیا آپ اندر چلے جاتے تھے لیکن ہمارے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرتے تھے حالانکہ جب آپ نماز ادا کیا کرتے تھے ، تو ہماری طرف رخ کر لیتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لئے اپنے مخصوص وقت پر تشریف لائے جس وقت میں آپ پہلے تشریف لاتے تھے اس وقت میں اور ابوعامر اشعری بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اس خواب کے بارے میں نہ بتاؤں جو میں نے دیکھا ہے میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے جعفر کو دیکھا کہ اس کے دو پر ہیں جو خون میں ڈوبے ہوئے ہیں ، اور اس کے سامنے زید تھا ، اور ان لوگوں کے ساتھ ابن رواحہ تھا یوں لگ رہا تھا جیسے اس نے منہ پھیرا ہے میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں جب جعفر آگے بڑھا اور اس نے دیکھا کہ قتل ہو جائے گا ، تو اس نے اپنے چہرے کو نہیں پھیرا زید نے بھی اسی طرح کیا لیکن ابن رواحہ نے اپنا چہرہ پھیر لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن دینار ابوحمزہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔