مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ باب: غزوہ مؤتہ کا بیان
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ دَبَغْتُ أَرْبَعِينَ مَنِيئَةً ، وَعَجَنْتُ عَجْنِي ، وَغَسَّلْتُ بَنِيَّ وَدَهَنْتُهُمْ وَنَظَّفْتُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتِنِي بِبَنِي جَعْفَرٍ " . ¤ قَالَتْ : فَأَتَيْتُهُ بِهِمْ فَشَمَّهُمْ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا يُبْكِيكَ أَبَلَغَكَ عَنْ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أُصِيبُوا هَذَا الْيَوْمَ " . قَالَتْ : فَقُمْتُ أَصِيحُ وَاجْتَمَعَ إِلَيَّ النِّسَاءُ . ¤ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَهْلِهِ ، فَقَالَ : " لَا تُغْفِلُوا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا ، فَإِنَّهُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ امْرَأَتَانِ لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُمَا وَلَا جَرَّحَهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی شہید ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اس وقت میں نے چالیس چمڑوں کو دباغت کی ہوئی تھی اور آٹا گوندھا ہوا تھا میں نے اپنے بچوں کو نہلا دھلا کر صاف ستھرا کیا تھا ، اور تیل لگایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جعفر کے بچوں کو میرے پاس لے کے آؤ میں انہیں لے کے آپ کے پاس آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونگھا آپ کے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے میں نے عرض کی : یا رسول الله ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس وجہ سے رو رہے ہیں ؟ کیا سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آپ کو کوئی اطلاع ملی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں وہ لوگ آج شہید ہو گئے ہیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں اٹھ کر چیخنے لگی خواتین میرے پاس اکٹھی ہو گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہلخانہ کے پاس تشریف لے گئے ، اور فرمایا : آل جعفر کو اس حوالے سے غفلت کا شکار نہ کرو تم ان کے لئے کھانا تیار کرو کیونکہ وہ اپنے متعلقہ ( مرحوم ) فرد کے ( غم کے ) حوالے سے مشغول ہیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں دو خواتین ایسی ہیں کہ میں نے کسی کو ان دونوں کی توثیق کرتے ہوئے یا ان دونوں پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔