مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ باب: غزوہ مؤتہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُوا لِي فِي الْجَنَّةِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ عَلَى سَرِيرٍ ، فَرَأَيْتُ زَيْدًا وَابْنَ رَوَاحَةَ أَعْنَاقَهُمَا صُدُودًا " . قَالَ : " فَسَأَلْتُ " أَوْ " قَالَ لِي : إِنَّهُمَا حِينَ غَشِيَهُمَا الْمَوْتُ كَأَنَّهُمَا أَعْرَضَا أَوْ كَأَنَّهُمَا صَدَّا بِوُجُوهِهِمَا ، وَأَمَّا جَعْفَرٌ فَإِنَّهُ لَمْ يَفْعَلْ " . ¤ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ ابْنُ رَوَاحَةَ : ¤ أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهْ بِطَاعَةٍ مِنْكِ أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ فَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهْ ¤ قَالَ جَعْفَرٌ : مَا أَطْيَبَ رِيحَ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤ابن مسیب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میرے سامنے موتی سے بنا ہوا خیمہ پیش کیا گیا ان تینوں میں سے ہر ایک ایک پلنگ پر موجود تھا میں نے زید اور ابن رواحہ کو دیکھا کہ ان کی گردنیں ذرا سی ٹیڑھی ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : روایت میں شاید یہ الفاظ ہیں میں نے دریافت کیا : یا شاید یہ الفاظ ہیں کہ فرشتے نے مجھے بتایا : جب ان دونوں کو موت آنے لگی تو ان دونوں نے منہ پھیرنے کی کوشش کی یا اپنا چہرہ پھیرنے کی کوشش کی لیکن یا اپنا چہرہ پیچھے کرنے کی کوشش کی تو جہاں تک جعفر کا تعلق ہے ، تو انہوں نے ایسا نہیں کیا “ ۔ ابن عیینہ کہتے ہیں یہی وہ موقع ہے ، جس پر سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے تھے ۔ جبکہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تھا کہ جنت کی خوشبو کتنی پاکیزہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں تاہم
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔