مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ باب: غزوہ مؤتہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَيْشًا إِلَى مُؤْتَةَ ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمِيرُهُمْ ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ أَمِيرُهُمْ . ¤ فَانْطَلَقُوا حَتَّى لَقَوُا ابْنَ أَبِي سَبْرَةَ الْغَسَّانِيَّ بِمُؤْتَةَ ، وَبِهَا جُمُوعٌ مِنْ نَصَارَى الْعَرَبِ وَالرُّومِ وَبِهَا تَنُوخُ وَبَهْرَامُ ، فَأَغْلَقَ ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ دُونَ الْمُسْلِمِينَ الْحِصْنَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ خَرَجُوا . ¤ فَالْتَقَوْا عَلَى زَرْعٍ أَخْضَرَ فَاقْتَتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا ، وَأَخَذَ اللِّوَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقُتِلَ ، ثُمَّ أَخَذَهُ جَعْفَرٌ فَقُتِلَ ، ثُمَّ أَخَذَهُ ابْنُ رَوَاحَةَ فَقُتِلَ ، ثُمَّ اصْطَلَحَ النَّاسُ بَعْدَ أُمَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَهَزَمَ اللَّهُ الْعَدُوَّ ، وَأَظْهَرَ الْمُسْلِمِينَ . ¤ وَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جُمَادَى الْأُولَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ابن شہاب بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف ایک جنگی مہم روانہ کی آپ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کا امیر مقرر کیا اور فرمایا : اگر زید شہید ہو جائے ، تو جعفر بن ابوطالب ان کا امیر ہو گا اگر جعفر شہید ہو جائے ، تو عبداللہ بن رواحہ ان کا امیر ہو گا وہ لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ موتہ کے مقام پر ان لوگوں کا سامنا ابن ابوسبرہ غسانی سے ہوا وہاں عربوں کے عیسائیوں اور روم کے عیسائیوں کے بڑے لشکر تھے وہاں تنوخ اور بہرام بھی تھے ۔ ابن ابوسبرہ نے مسلمانوں سے تین دن پہلے قلعے پر قبضہ کر کے اسے بند کر لیا تھا پھر وہ لوگ وہاں سے نکلے اور سرسبز جگہ پر ان لوگوں کی لڑائی ہوئی شدید لڑائی ہوئی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لیا ہوا تھا وہ شہید ہو گئے پھر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا وہ شہید ہو گئے پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا وہ شہید ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ امراء کے بعد لوگوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر طے کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا ، اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الاول کے مہینے میں ان حضرات کو بھجوایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔