مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ باب: غزوہ مؤتہ کا بیان
وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِيَ الَّذِي أَرْضَعَنِي - وَكَانَ أَحَدَ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ ، وَكَانَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ - قَالَ : وَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ ، ثُمَّ عَقَرَهَا ، ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ . ¤ فَلَمَّا قُتِلَ جَعْفَرٌ أَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الرَّايَةَ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ بِهَا وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ فَجَعَلَ يَسْتَنْزِلُ نَفْسَهُ ، وَتَرَدَّدَ بَعْضَ التَّرَدُّدِ ثُمَّ قَالَ : ¤ أَقْسَمْتُ يَا نَفْسِي لَتَنْزِلِنَّهْ طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ مَا لِي أَرَاكِ تَكْرَهِينَ الْجَنَّهْ ¤ إِنْ أَجْلَبَ النَّاسُ وَشَدُّوا الرَّنَّهْ لَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهْ ¤ هَلْ أَنْتِ إِلَّا نُطْفَةٌ فِي شَنَّهْ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : ¤ يَا نَفْسُ إِنْ لَا تُقْتَلِي فَمُوتِي هَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صَلِيتِ ¤ وَمَا تَمَنَّيْتِ فَقَدْ لَقِيتِ إِنْ تَفْعَلِي فِعْلَهُمَا هُدِيتِ ¤ ثُمَّ نَزَلَ فَلَمَّا نَزَلَ أَتَاهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ بِعَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ ، فَقَالَ : اشْدُدْ بِهَذَا صُلْبَكَ ; فَإِنَّكَ قَدْ لَقِيتَ فِي أَيَّامِكَ هَذِهِ مَا قَدْ لَقِيتَ ، فَأَخَذَهُ مِنْ يَدِهِ فَانْتَهَشَ مِنْهُ نَهْشَةً ثُمَّ سَمِعَ الْحُطَمَةَ فِي نَاحِيَةِ النَّاسِ ، فَقَالَ : وَأَنْتَ فِي الدُّنْيَا ؟ ثُمَّ أَلْقَاهُ مِنْ يَدِهِ ، ثُمَّ أَخَذَ سَيْفَهُ فَتَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ . ¤ فَأَخَذَ الرَّايَةَ ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ أَحَدُ بَلْعَجْلَانَ ، وَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ اصْطَلِحُوا عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ ، قَالُوا : أَنْتَ ، قَالَ : مَا أَنَا بِفَاعِلٍ . ¤ فَاصْطَلَحَ النَّاسُ عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَلَمَّا أَخَذَ الرَّايَةَ دَافَعَ الْقَوْمَ ثُمَّ انْحَازَ حَتَّى انْصَرَفَ فَلَمَّا أُصِيبُوا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا " . ¤ ثُمَّ صَمَتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْأَنْصَارِ ، وَظَنُّوا أَنَّهُ كَانَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ بَعْضُ مَا يَكْرَهُونَهُ قَالَ : " ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ رُفِعُوا إِلَيَّ فِي الْجَنَّةِ - فِيمَا يَرَى النَّائِمُ - عَلَى سُرُرٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَرَأَيْتُ فِي سَرِيرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ازْوِرَارًا عَنْ سَرِيرَيْ صَاحِبَيْهِ ، فَقُلْتُ : بِمَ هَذَا ؟ فَقِيلَ لِي : مَضَيَا ، وَتَرَدَّدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَعْضَ التَّرَدُّدِ وَمَضَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤عباد بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : میرے والد جو میرے رضائی والد ہیں ، جن کا تعلق بنو مروہ بن عوف سے ہے ، اور وہ غزوہ موتہ میں شریک ہوئے تھے انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ میں گویا اس وقت بھی سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جب وہ اپنے گہرے سرخی مائل گھوڑے سے اترے تھے اور پھر انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تھے اور پھر دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تھے جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لے لیا پھر وہ اسے لے کر آگے بڑھے وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے انہیں اپنے آپ کو نیچے اتارنے میں کچھ تردد کا سامنا کرنا پڑا پھر انہوں نے یہ شعر پڑھے : ” میں قسم دیتا ہوں ، اے میرے نفس ! کہ تم نے اس صورتحال کا ضرور سامنا کرنا ہے ، خواہ تم خوشی کے ساتھ ایسا کرو ، یا بامر مجبوری کرو ، تمہارے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ تم جنت کو ناپسند کرتے ہو گے ، اگرچہ لوگ اکٹھے ہو کر رونا شروع کر دیں ، کتنے ہی عرصے تک تم مطمئن رہے ہو ، اور تم تو صرف مشکیزے میں موجود ایک بوند ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ” اے نفس ! اگر تم ( جنگ میں ) قتل ( یعنی شہید ) نہ بھی ہوئے تو ( طبعی موت ) مر جاؤ گے ، یہ موت کا کبوتر آ گیا ہے ، تم نے جس کی تمنا کی اس کا سامنا کر لیا ، اگر تم یہ دونوں کام کرتے ہو تو ( سمجھ لو کہ ) تمہیں ہدایت نصیب ہو گئی “ ۔ پھر وہ نیچے اتر آئے جب وہ نیچے اترے تو ان کا چچازاد ان کے پاس گوشت والی ہڈی لے کے آیا اور بولا: اس کے ذریعے آپ اپنی پشت کو مضبوط کریں کیونکہ آپ نے ان دنوں میں جس صورت حال کا سامنا کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے ۔ انہوں نے وہ ہاتھ میں لی اور اس کے ذریعے اسے نوچ کے کھانا شروع کیا پھر انہوں نے ایک طرف کے لوگوں کے درمیان ہل چل دیکھی تو فرمایا تم دنیا میں مشغول ہو پھر انہوں نے اس گوشت کو ایک طرف رکھا تلوار پکڑی اور آگے بڑھ گئے ، اور لڑائی کرتے ہوئے شہید ہو گئے پھر ثابت بن اقرم جن کا تعلق بلعجلان سے تھا ۔ انہوں نے جھنڈا لیا اور بولے : اے لوگو تم اپنے میں سے ایک شخص پر متفق ہو جاؤ لوگوں نے کہا: آپ پر ہو جاتے ہیں انہوں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا پھر لوگوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر اتفاق کیا جب انہوں نے جھنڈا لیا تو انہوں نے دشمن کو پیچھے دھکیل دیا ، جب یہ لوگ شہید ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زید بن حارثہ نے جھنڈا لیا وہ اس کو ساتھ لے کر لڑتا رہا ، یہاں تک کہ شہید ہو گیا پھر جعفر نے اسے لیا وہ لڑتا رہا ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے یہاں تک کہ انصار کے چہرے متغیر ہو گئے ، اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ایسی اطلاع آنے والی ہے ، جو انہیں پسند نہیں ہو گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے لیا ، پھر وہ اسے لے کر لڑتا رہا ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی جنت میں یہ تینوں میرے سامنے پیش کیے گئے میں نے خواب میں یہ دیکھا کہ یہ سونے کے پلنگوں پر بیٹھے ہوئے ہیں میں نے عبداللہ بن رواحہ کے پلنگ میں اس کے دونوں ساتھیوں کے پلنگوں کے مقابلے میں ، کچھ زیادہ آرائش کو دیکھا تو میں نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو مجھے بتایا گیا وہ دونوں تو ( شہید ہونے کے لئے ) آگے بڑھ گئے تھے لیکن عبداللہ بن رواحہ پہلے تردد کا شکار ہوئے ، اور پھر آگے بڑھے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔