مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ باب: غزوہ مؤتہ کا بیان
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا إِلَى مُؤْتَةَ فِي جُمَادَى الْأُولَى مِنْ سَنَةِ ثَمَانٍ ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ، فَقَالَ لَهُمْ : " إِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى النَّاسِ ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ عَلَى النَّاسِ " . ¤ فَتَجَهَّزَ النَّاسُ ثُمَّ تَهَيَّئُوا لِلْخُرُوجِ وَهُمْ ثَلَاثَةُ آلَافٍ فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوجُهُمْ وَدَّعَ النَّاسُ أُمَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَلَّمُوا عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا وُدِّعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ مَعَ مَنْ وُدِّعَ بَكَى ، فَقِيلَ لَهُ : مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا بِي حُبُّ الدُّنْيَا وَصَبَابَةٌ ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ يَذْكُرُ فِيهَا النَّارَ : ( وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا ) فَلَسْتُ أَدْرِي كَيْفَ لِي بِالصَّدْرِ بَعْدَ الْوُرُودِ ؟ ! ؟ . ¤ فَقَالَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ : صَحِبَكُمُ اللَّهُ وَدَفَعَ عَنْكُمْ ، وَرَدَّكُمْ إِلَيْنَا صَالِحِينَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : ¤ لَكِنَّنِي أَسْأَلُ الرَّحْمَنَ مَغْفِرَةً وَضَرْبَةَ ذَاتِ فَزْعٍ تَقْذِفُ الزَّبِدَا أَوْ طَعْنَةً بِيَدَيْ حَرَّانَ مُجْهِزَةً ¤ بِحَرْبَةٍ تَنْفُذُ الْأَحْشَاءَ وَالْكَبِدَا حَتَّى يَقُولُوا إِذَا مَرُّوا عَلَى جَدَثِي ¤ أَرْشَدَهُ اللَّهُ مِنْ غَازٍ وَقَدْ رَشِدَا ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ تَهَيَّئُوا لِلْخُرُوجِ ، فَأَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوَدِّعُهُ فَقَالَ : يُثَبِّتُ اللَّهُ مَا آتَاكَ مِنْ حُسْنٍ تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ نَافِلَةً فِرَاسَةً خَالَفَتْهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا أَنْتَ الرَّسُولُ فَمَنْ يُحْرَمْ نَوَافِلَهُ وَالْوَجْهَ مِنْهُ فَقَدْ أَزْرَى بِهِ الْقَدْرُ . ¤ ثُمَّ خَرَجَ الْقَوْمُ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُشَيِّعُهُمْ حَتَّى إِذَا وَدَّعَهُمْ وَانْصَرَفَ عَنْهُمْ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : خَلْفَ السَّلَامِ عَلَى امْرِئٍ وَدَّعْتُهُ فِي النَّخْلِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَكَلَيْلِ ثُمَّ مَضَوْا حَتَّى نَزَلُوا مَعَانَ مَنْ أَرْضِ الشَّامِ ، فَبَلَغَهُمْ أَنَّ هِرَقْلَ قَدْ نَزَلَ فِي مَآبَ مِنْ أَرْضِ الْبَلْقَاءِ فِي مِائَةِ أَلْفٍ مِنَ الرُّومِ ، وَقَدِ اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ الْمُسْتَعْرِبَةُ مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ وَبَلْقِينَ وَبَهْرَامَ وَبَلِيٍّ فِي مِائَةِ أَلْفٍ ، عَلَيْهِمْ رَجُلٌ يَلِي أَخْذَ رَايَتِهِمْ يُقَالُ لَهُ : مَالِكُ بْنُ زَانَةَ . ¤ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ قَامُوا بِمَعَانَ لَيْلَتَيْنِ يَنْظُرُونَ فِي أَمْرِهِمْ ، وَقَالُوا : نَكْتُبُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنُخْبِرُهُ بِعَدَدِ عَدُوِّنَا ، فَإِمَّا أَنْ يَمُدَّنَا ، وَإِمَّا أَنْ يَأْمُرَنَا بِأَمْرِهِ فَنَمْضِيَ لَهُ . ¤ فَشَجَّعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ النَّاسَ وَقَالَ : يَا قَوْمِ ، وَاللَّهِ إِنَّ الَّذِي تَكْرَهُونَ لَلَّذِي خَرَجْتُمْ لَهُ تَطْلُبُونَ الشَّهَادَةَ ، وَمَا نُقَاتِلُ النَّاسَ بِعَدَدٍ وَلَا قُوَّةٍ وَلَا كَثْرَةٍ ، إِنَّمَا نُقَاتِلُهُمْ بِهَذَا الدِّينِ الَّذِي أَكْرَمَنَا اللَّهُ بِهِ ، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا هِيَ إِحْدَى الْحُسْنَيْنِ : إِمَّا ظُهُورٌ ، وَإِمَّا شَهَادَةٌ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فِي مَقَامِهِمْ ذَلِكَ ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ كَمَا حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : كُنْتُ يَتِيمًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ فِي حِجْرِهِ ، فَخَرَجَ فِي سَفْرَتِهِ تِلْكَ مُرْدِفِي عَلَى حَقِيبَةِ رَاحِلَتِهِ ، وَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَسْبُرُ لَيْلَةً إِذْ سَمِعْتُهُ يَتَمَثَّلُ بِبَيْتِهِ هَذَا : إِذَا أَدَّيْتَنِي وَحَمَلْتَ رَحْلِي مَسِيرَةَ أَرْبَعٍ بَعْدَ الْحَسَاءِ فَلَمَّا سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَكَيْتُ ، فَخَفَقَنِي بِالدُّرَّةِ وَقَالَ : مَا عَلَيْكَ يَا لُكَعُ أَنْ يَرْزُقَنِي اللَّهُ الشَّهَادَةَ ، وَتَرْجِعَ مِنْ شُعْبَتِيَ الرَّحْلُ . ¤ وَمَضَى النَّاسُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِتُخُومِ الْبَلْقَاءِ لَقِيَتْهُمْ جُمُوعُ هِرَقْلَ مِنَ الرُّومِ وَالْعَرَبِ بِقَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْبَلْقَاءِ يُقَالُ لَهَا : مَشَارِقُ ، ثُمَّ دَنَا الْمُسْلِمُونَ ، وَانْحَازَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا : مُؤْتَةُ ، فَالْتَقَى النَّاسُ عِنْدَهَا . ¤ وَتَعَبَّأَ الْمُسْلِمُونَ فَجَعَلُوا عَلَى مَيْمَنَتِهِمْ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ يُقَالُ لَهُ : قُطْبَةُ بْنُ قَتَادَةَ ، وَعَلَى مَيْسَرَتِهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : عُبَادَةُ بْنُ مَالِكٍ ، ثُمَّ الْتَقَى النَّاسُ وَاقْتَتَلُوا ، فَقَاتَلَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بِرَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى شَاطَ فِي رِمَاحِ الْقَوْمِ ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا أَلْجَمَهُ الْقِتَالُ ، اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ فَعَقَرَهَا ، فَقَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ . ¤ وَكَانَ جَعْفَرٌ أَوَّلَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَقَرَ فِي الْإِسْلَامِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَى عُرْوَةَ . ¤عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف ایک جنگی مہم روانہ کی یہ جمادی الاول سن آٹھ ہجری کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا اور ان لوگوں سے فرمایا اگر زید شہید ہو جائے ، تو جعفر بن ابوطالب لوگوں کا امیر ہو گا اگر جعفر شہید ہو گیا تو عبداللہ بن رواحہ لوگوں کا امیر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے تیاری کی اور روانگی کے لئے تیار ہو گئے ان لوگوں کی تعداد تین ہزار تھی جب ان کے نکلنے کا وقت آیا تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ امراء کو الواداع کہا: ان کے لئے سلامتی کی دعائیں کیں جب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھیوں نے الوداع کہا: تو وہ رونے لگے ان سے کہا: گیا اے ابن رواحہ آپ کیوں رو رہے ہیں انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میرے اندر دنیا کی محبت نہیں ہے لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی کتاب کی ایک آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے ، جس میں جہنم کا ذکر ہے ( اور ارشاد باری تعالی ہے : ) ” تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہو گا یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے طے شدہ فیصلہ ہے “ تو مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس پر وارد ہونے کے بعد اس سے بچاؤ کیسے ہو گا ، تو مسلمانوں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ رہے ، اور آپ سے پریشانی کو دور کرے اور آپ کو صالح ہونے کے عالم میں ہماری طرف لوٹائے اس وقت سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” لیکن میں رحمن سے بخشش مانگتا ہوں ، اور ایسی ضرب ( کا سوال کرتا ہوں ) جو پریشان کرنے والی ہو اور جھاگ پھینک دے ، یا ایسا زخم ( یا وار ) ہو جو نیزے کے ذریعے پیاسے شخص کے پہلو پر کیا جائے اور اس کے پیٹ اور جگر تک سرایت کر جائے ، یہاں تک کہ جب لوگ میری قبر کے پاس سے گزاریں تو یہ کہیں : اللہ تعالیٰ نے اس مجاہد کو ہدایت عطا کی اور یہ ہدایت پا گیا “ ۔ پھر جب ان لوگوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ سے رخصتی لیں تو انہوں نے یہ اشعار کہے : ” جو اچھائی آپ کے پاس آئے اللہ تعالیٰ اس کو برقرار رکھے جس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام ثابت قدم رہے ، اور اسی مدد ( آپ کے پاس آئے ) جو اس کی مانند ہو جو انہوں نے مدد کی ، مجھے آپ کے اندر ایسی اضافی بھلائی نظر آ رہی ہے ، کہ میں اس حوالے سے لوگوں سے مختلف رائے رکھتا ہوں ، آپ رسول ہیں ، تو جو آپ کے عطیات اور توجہ سے محروم رہے ، تو تقدیر نے اس کو حقیر ( یا محروم ) رکھا ہو گا “ ۔ پھر وہ لوگ نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ چلتے ہوئے نکلے تاکہ آپ انہیں رخصت کریں پھر آپ انہیں چھوڑ کر واپس آ گئے ، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ شعر کہا: ” سلامتی ہو اس شخص پر جس کو تم نے ، کجھوروں میں رخصت کیا ہے ، جو ایسا نہیں ہے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو یا پریشانی کا شکار کر دیا گیا ہو “ ۔ پھر وہ لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ وہ شام کی سرزمین پر موجود جگہ معان میں پہنچے انہیں یہ اطلاع ملی کہ ہرقل نے بلقاء کی سرزمین پر موجود مآب نامی جگہ پر ایک لاکھ رومیوں کے ساتھ پڑاؤ کیا ہوا ہے ، اور اس کے ساتھ عربوں کے نواحی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لخم ، جذام بلقین ، بہرام اور بلی سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ افراد بھی شامل ہیں ، جن کا مخصوص جھنڈا ہے ، اور اس جھنڈے کو اٹھانے والا شخص مالک بن زانہ نامی شخص ہے جب مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ معان کے مقام پر دو راتوں تک ٹھہرے رہے ، اور ان لوگوں کے معاملے کا جائزہ لیتے رہے ۔ انہوں نے یہ کہا: کہ ہمیں اللہ کے رسول کو خط لکھنا چاہیے اور دشمن کی تعداد کے بارے میں آپ کو بتانا چاہیے یا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مدد کریں گے یا پھر ہمیں کوئی حکم دیں گے ، تو ہم اس کو جاری کریں گے ، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جوش دلاتے ہوئے فرمایا : اے میری قوم اللہ کی قسم تم اس چیز کو ناپسند کر رہے ہو جس کی خاطر تم نکلے ہو تم شہادت کے طلبگار ہو ہم لوگوں کے ساتھ تعداد یا قوت یا کثرت کی بنیاد پر جنگ نہیں کرتے ہیں ہم اس دین کی بنیاد پر ان کے ساتھ جنگ کرتے ہیں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت عطا کی ہے ، تو تم روانہ ہو جاؤ کیونکہ دو میں سے کوئی ایک تو اچھائی ملے گی یا تو غلبہ نصیب ہو گا یا شہادت نصیب ہو گی ۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اسی جگہ پر ٹھہرنے کے دوران یہ بات کہی تھی ۔ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں عبداللہ بن ابوبکر نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ کہتے ہیں میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش یتیم لڑکا تھا وہ اپنے سفر پر نکلے ، تو انہوں نے مجھے اپنی سواری پر پیچھے بٹھایا ہوا تھا رات کے وقت ہم سفر کر رہے تھے اسی دوران میں نے انہیں یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا : ” جب تم نے مجھے ادا کر دیا اور میرے پالان پر سوار ہو گئے ، جو چار ، حساء کی دوری جتنا فاصلہ ہو “ ۔ جب میں نے ان کی زبانی یہ اشعار سنے تو میں رو پڑا انہوں نے مجھے درہ چبھویا اور کہا: اے لڑکے تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر اللہ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب کر دیتا ہے ، اور تم پالان کے دو حصوں سے واپس چلے جاتے ہو ، لوگ چلتے رہے ، یہاں تک کہ وہ تخوم بلقاء کے مقام پر پہنچ گئے وہاں ہرقل کے لشکر سے ان کا سامنا ہوا جس میں رومی بھی تھے اور عرب بھی تھے یہ بلقاء کی ایک بستی میں سامنا ہوا تھا جس کا نام مشارق تھا پھر مسلمان قریب ہوئے ، اور مسلمان ایک بستی کی طرف آ گئے جس کا نام مؤتہ تھا اس مقام پر دونوں فریقوں کی لڑائی ہوئی ، مسلمانوں کو دشواری کا سامنا ہوا ، ان کے میمنہ پر بنوعذرہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جس کا نام قطبہ بن قتادہ تھا ، اور ان کے میسرہ پر انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جس کا نام عبادہ بن مالک تھا پھر لوگوں کی لڑائی ہوئی گھمسان کی جنگ ہوئی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو اٹھایا ہوا تھا ، اور لڑائی میں حصہ لے رہے تھے ، یہاں تک کہ وہ دشمن کے نیزوں کا شکار ہو گئے ، تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے وہ جھنڈا لے لیا وہ اسے لے کر لڑائی کرتے رہے ، یہاں تک کہ جب لڑائی شدید ہو گئی تو وہ اپنے گھوڑے سے اترے اور انہوں نے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں ، اور دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ مسلمانوں میں سے وہ پہلے فرد ہیں کہ جنہوں نے اپنے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور عروہ تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔