حدیث نمبر: 10219
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : أَنَا دَفَعْتُ الرَّايَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، وَأُصِيبَ فَدَفَعْتُهَا إِلَى ثَابِتِ بْنِ أَقْرَمَ الْأَنْصَارِيِّ فَدَفَعَهَا إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ لَهُ : لِمَ تَدْفَعُهَا إِلَيَّ ؟ قَالَ : أَنْتَ أَعْلَمُ بِالْقِتَالِ مِنِّي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوالیسر بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے جھنڈا سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو دیا وہ شہید ہو گئے ، تو میں نے وہ ثابت بن اقرم انصاری رضی اللہ عنہ کو دیا انہوں نے وہ جھنڈا خالد بن ولید کو دے دیا سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : آپ نے وہ مجھے کیوں دیا ہے ، تو انہوں نے بتایا : تم جنگ کے بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ شمالی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10219
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1666)»